رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، دو اہلکار ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

افغان سرحد سے ملحقہ اس قبائلی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں سے جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں جب کہ یہاں روپوش عسکریت پسند ماضی میں سکیورٹی قافلوں اور اہلکاروں کو نشانہ بناتے آئے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں کم ازکم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعرات کی صبح ارمگئی کے علاقے میں پیش آیا جہاں سکیورٹی اہلکار استعمال کے لیے پانی بھر کے لا رہے تھے کہ جیسے ہی اپنی چیک پوسٹ کے قریب پہنچے تو وہاں بارودی سرنگ کی زد میں آ گئے۔

دھماکے سے دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ دو زخمی ہو گئے۔

کرم ایجنسی کا شمار پاکستان کے حساس ترین قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے۔ افغان سرحد سے ملحقہ اس قبائلی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں سے جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں جب کہ یہاں روپوش عسکریت پسند ماضی میں سکیورٹی قافلوں اور اہلکاروں کو نشانہ بناتے آئے ہیں۔

دریں اثناء جمعرات کو ہی قبائلی علاقوں سے ملحقہ صوبہ خیبر پختنونخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق کانسٹیبل حشمت پشاور میں جوڈیشل کمپلیکس میں ایک سماعت کے لیے آئے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے انھیں گولیوں سے نشانہ بنایا۔

کرم ایجنسی اور پشاور میں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف گزشتہ سال بھرپور کارروائیاں شروع کی تھیں جن میں 1200 سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

ان کارروائیوں کی وجہ سے شدت پسند ان علاقوں سے فرار بھی ہوئے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے بھی فورسز کارروائیاں کر رہی ہیں۔

فوجی آپریشن کے بعد ملک میں ماضی کی نسبت امن و امان کی صورتحال میں قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے لیکن پھر بھی تشدد کے اکا دکا واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، جنہیں حکام سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG