رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی میں بم دھماکا، 10 ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

دھماکا انتہائی مصروف کشمیر چوک میں ہوا جہاں شیعہ طوری قبیلے کی اکثریت ہے اور حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

پاکستان میں حکام نے کہا ہے کہ افغان سرحد کے قریب قبائلی خطے میں پیر کوہونے والے ایک طاقتور بم دھماکے میں کم ازکم 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

بم دھماکہ کُرم ایجنسی کے انتظامی مرکز پارا چنار کے انتہائی مصروف کشمیر چوک میں ہوا جہاں شیعہ طوری قبیلے کی اکثریت ہے اور حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

زخمیوں کوشہر کے مرکزی اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ شدید زخمی افراد کو پشاور کے اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔

فرنٹیئر کور اور قبائلی پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر ذمہ داران کی تلاش شروع کردی ہے۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے مگر پاکستان اس شمال مغربی خطے میں طالبان اور دیگر سنی انتہا پسند تنظیمیں متحریک ہیں۔

کُرم ایجنسی کا علاقہ شیعہ سنی فسادات کی وجہ سے طویل عرصے تک توجہ کا مرکز رہا ہے اور فرقہ وارانہ کارروائیوں میں مقامی حکام کے مطابق 2007 ء سے اب تک 1600 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تاہم حالیہ دنوں میں متحارب گروہوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے اور حال ہی میں پشاور کو پارا چنار سے ملانے والی شاہراہ کھلنے کے بعد سے خطے کے مجموعی حالات میں بہتری آئی ہے۔

اس سال فروری میں پارا چنار میں ایک مسجد پرخودکش بم دھماکا 26 افراد کی ہلاکت کا باعث بنا تھا۔
XS
SM
MD
LG