رسائی کے لنکس

کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے پر محنت کش طبقے کی تشویش

  • حسن سید

کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے پر محنت کش طبقے کی تشویش

کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے پر محنت کش طبقے کی تشویش

پاکستان کے مزدور طبقے کو تشویش ہے کہ اٹھارھویں آئینی ترمیم کے تحت کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد ان کے حقوق اور مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں پاکستان مزدور فیڈریشن کے ایک عہدیدار ظہور اعوان نہ کہا کہ اٹھارھویں ترمیم کے تحت کئی محکموں کا انتظام مرکز سے صوبوں کو منتقل ہونے سے ان کے مطابق چھوٹے صوبوں کے محنت کشوں کو زیادہ نقصان ہوگا کیوں ان صوبوں کے پاس اپنے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے دستیاب وسائل نہ کافی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترمیم سے پہلے ملک بھر کے محنت کشوں پر لاگو ہونے والے قوانین ایک ہی جیسے تھے لیکن اب جب ہر صوبہ اپنے مطابق الگ قانون تشکیل دے گا تو اس سے بھی مزدوروں کے مفادادت کو نقصان ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف حکمران پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نیئر بخاری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ہمیشہ سے اپنی سیاست میں ہاریوں اور کسانوں کے حقوق کو بہت اہمیت دیتی آئی ہے اور آئندہ بھی ان کے مفادات پر ضرب نہیں لگنے دے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اٹھارھویں آئینی ترمیم ایک متفقہ قانون ہے جو صوبائی خودمختاری کی غرض سے متعارف کروایا گیا ہے اور نئیر بخاری کے مطابق پاکستان کا مزدور طبقہ اس کے قوانین کو اپنے لیے بند گلی نہ سمجے کیوں کہ وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کی کونسل سمیت ہر دستیاب قانونی طریقے سے ان کے مسائل حل کرے گی ۔

XS
SM
MD
LG