رسائی کے لنکس

پاکستان میں لیبر قوانین کا اطلاق صرف ایک تہائی مزدوروں پر

  • حسن سید

پاکستان میں لیبر قوانین کا اطلاق صرف ایک تہائی مزدوروں پر

پاکستان میں لیبر قوانین کا اطلاق صرف ایک تہائی مزدوروں پر

ماہرین کے مطابق ملک بھر میں مزدور طبقے کی تعداد پانچ کروڑ سے بھی زیادہ ہے لیکن ان میں سے صرف ایک تہائی افراد پر ہی لیبر قوانین کا اطلاق ہورہا ہے جب کہ باقی مزدور استحصال،جبری مشقت اور خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اسلام آباد میں غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ(PILDAT)کے زیر اہتمام ارکان پارلیمان کے لیے منعقد ایک بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کی کل لیبر فورس کا تقریباً 50فیصد زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے جن کے حقوق اور مفادات کے حوالے سے صورتحال مایوس کن ہے۔ جب کہ اس شعبے میں جبری مشقت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔

بریفنگ میں ماہرین اور خود بعض ارکان پارلیمان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرنے والے افراد کے لیے باضابطہ طور پر کوئی لیبر قوانین موجود نہیں ہیں جس کے باعث انہیں مالکان کی طرف سے جنسی استحصال اور بدسلوکی کا سامنا ہے۔

محنت و افرادی قوت کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ پاکستان میں لیبر قوانین کے نفاذ کے حوالے سے صورتحال مایوس کن ہے تاہم انھوں نے اس کی ذمے داری ماضی کے ان فوجی آمروں پر عائد کی جو پاکستان کی نصف تاریخ سے زائد عرصے تک اقتدار پر قابض رہے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھاکہ پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ کئی دہائیوں کی کوتاہیوں اور بگاڑ کو درست کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس ضمن میں مزدور طبقے کی بہبود کے لیے 40ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے جو ان کے لیے گھروں کی تعمیر اور ان کے بچوں کے لیے ایک میڈیکل کالج کی تعمیر پر خرچ کی جارہی ہے تاکہ ایک مزدور کا بچہ مزدور نہ بنے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے مزدور کی کم ازکم اجرت چھ ہزار مقرر کرنے،لیبر فورسز کے حقوق کے تحفظ کے لیے یونین سازی کی مکمل اجازت دینے، مزدوروں کی پینشن 1500سے دو ہزار کرنے اور مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں عارضی طور پر طویل عرصے سے کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کو مستقل کرنے سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ مزدور فورسز کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئین میں تقریباً 70قوانین موجود ہیں لیکن اس کا زیادہ تر اطلاق صرف فارمل سیکٹر جیسے فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والوں پر ہورہا ہے جب کہ انفارمل سیکٹر جیسے آٹو ورکشاپ، ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کرنے والے مزدور ان سے مستفید نہیں ہورہے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر عالیہ خان نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں ایک اہم مسئلہ چائلڈ لیبر یعنی بچوں سے جبری مشقت کا بھی ہے جس کی اہم وجوہات میں قوانین کا غیر مئوثر نفاذ،غربت،استحصالی سماجی رویے اور تعلیم کی کمی یا ناخواندگی ہے۔

XS
SM
MD
LG