رسائی کے لنکس

کراچی سے بات آگے بڑھ گئی، سیاسی ہلچل کا رخ اب لاہور کی طرف


وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کراچی میں متحدہ قومی مومنٹ کے ہیڈکوارٹرز نائن زیرو پہنچنے پر۔ ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما بابر غوری (دائیں) ساتھ ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کراچی میں متحدہ قومی مومنٹ کے ہیڈکوارٹرز نائن زیرو پہنچنے پر۔ ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما بابر غوری (دائیں) ساتھ ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

گزشتہ چوبیس روز سے جاری سیاسی ہلچل نے اسلام آباد اور کراچی کے بعد اب لاہور کا رخ کر لیا اورگورنر پنجاب کا تین روزہ سوگ ختم ہونے کے بعد مسلم لیگ( ن) کے چارٹرآف ڈیمانڈ کی تین روزہ ڈیڈ لائن شروع ہوگئی ہے ۔

چودہ دسمبر کو جے یو آئی کی وفاقی حکومت سے علیحدگی کے بعد ملک کی سیاست میں آنے والے بھونچال کے آفٹر شاکس تاحال جاری ہیں۔ جے یو آئی کی علیحدگی کے بعد حکمراں جماعت پہلے تیرہ دن متحدہ کو منانے کی کوشش کرتی رہی لیکن ستائیس دسمبر کو ایم کیو ایم الگ ہو گئی اورآج سات دسمبر کو واپس آ گئی ہے۔ اگر چہ اس طرف سے تو پیپلزپارٹی نمٹ گئی ہے لیکن جوڈیڈ لائن آج نصف شب کو شروع ہونے والی ہے اس کا دفاع کرنا ابھی باقی ہے ۔

مسلم لیگ (ن) پہلے ہی یہ باور کراچکی ہے کہ کہ اگر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات پراثبات میں سر نہ ہلایا تو 10 جنوری یعنی پیر سے پیپلز پارٹی کو پنجاب حکومت سے الگ کردیا جائے گا۔

گورنر پنجا ب کے3 روزہ سوگ ختم ہوتے ہی نون لیگ کی قیادت نے ایک مرتبہ پھر غیر رسمی مشاورت کی جس کے بعد طے پایا ہے کہ مطالبات اور ڈیڈ لائن میں کوئی لچک پیدا نہیں کی جائے گی۔اس ضمن میں سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعظم نے مطالبات پر ہاں نہ کی تو پھر مزید کسی رابطے کے بغیر 10 جنوری کو پیپلزپارٹی کے وزراء کو کابینہ سے الگ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا جائے گا۔ ادھروفاقی وزیر قانون بابر اعوان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی ڈیڈ لائن کا جواب دس جنوری کے بعد دیا جائے گا۔

مسلم لیگ ن نے حکومت کو دی گئی تین دن کی مہلت میں سلمان تاثیر کے قتل کے سبب سوئم کے تین دن تک کی توسیع کر دی تھی جو آج نصف شب سے شروع ہورہی ہے۔ نواز شریف نے چار جنوری کو مسلم لیگ ن کی سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چودہ نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا دیا تھا اور کہا تھاکہ وزیراعظم ایک عبوری ایجنڈے پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا72 گھنٹے کے اندر اعلان کریں۔ اسی دن گورنر پنجاب کا قتل ہوگیا جس کے سبب نون لیگ نے مقتول گورنر کے سوئم تک کے دن نکال کر تین دن کی توسیع کردی تھی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم اس ایجنڈے کی تکمیل پر آمادہ نہ ہوئے تو مسلم لیگ ن پنجاب سے بھی علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہوگی ۔

XS
SM
MD
LG