رسائی کے لنکس

لاہور: چرچ کو نقصان پہنچانے کی کوشش پر 500 افراد کے خلاف مقدمہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایس پی انویسٹیگیشن اعجاز شفیع ڈوگر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک 40 سے زائد لوگوں کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے جب کہ دیگر نامعلوم ہیں۔

پاکستان کے گنجان آباد صوبہ پنجاب میں پولیس نے عبادت گاہ اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کر کے انھیں زخمی کرنے کے الزام میں پانچ سو سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

یہ مقدمہ لاہور کے علاقے گلشن راوی میں دو روز قبل مقدس اوراق کی مبینہ بے حرمتی کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں درج کیا گیا۔

اتوار کو دیر گئے مسلمان آبادی کے ایک ہجوم نے ساندہ میں مسیحیوں کی بستی دھوپ سڑی میں واقع چرچ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔

یہ مشتعل افراد ایک مسیحی شخص کے ہاتھوں مقدس اوراق کی مبینہ بے حرمتی پر سیخ پا تھے۔

پولیس نے اس مسیحی شخص کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا تھا لیکن مقامی مسلمان آبادی کے لوگ اس مبینہ واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

اس دوران ان کی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی جس میں ایک اعلیٰ افسر سمیت کم ازکم دس پولیس والے زخمی ہوگئے۔

ایس پی انویسٹیگیشن اعجاز شفیع ڈوگر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک 40 سے زائد لوگوں کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے جب کہ دیگر نامعلوم ہیں۔

پاکستان میں توہین مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ماضی میں کئی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جب توہین مذہب کے کسی مبینہ واقعے پر مشتعل ہجوم کی طرف سے جلاؤ گھیراؤ کیا گیا اور ان میں دو بار دو مختلف مسیحی آبادیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی دیکھنے میں آچکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور آزاد خیال حلقے یہ کہہ کر توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ اکثر اس قانون کو لوگ ذاتی مفاد یا دشمنی کے لیے غلط طور پر استعمال کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG