رسائی کے لنکس

سانحہ پشاور کے خلاف ملکی ایوانوں میں تحریکیں جمع


سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں تحاریک التوا اور مذمتی قراردادیں پیش کی گئیں، جب کہ قومی اسمبلی میں اِس سانحے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی

سانحہٴپشاور، پاکستان کی تاریخ کا ایسا سانحہ ہے جس پر ہمیشہ افسوس کیا جاتا رہے گا۔ اتوار اور پیر کو اس سانحہ کی گونج جہاں سڑکوں پر احتجاج بن کر گونجتی رہی وہیں انتظامی ایوانوں میں بھی اس سانحے پر بھرپور انداز سے افسوس اور مذمت کا اظہار کیا جاتا رہا۔

سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں تحاریک التوا اور مذمتی قراردادیں پیش کی گئیں۔ قومی اسمبلی میں تو اس سانحے کے خلاف مذمتی قرارداد نہ صرف پیش کی گئی بلکہ فوری طور پر منظور بھی کرلی گئی۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں جاری اجلاس کے دوران سانحہ پشاور کے خلاف قراداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ پشاور میں گرجا گھر پر حملہ صرف مسیحی برادری پر ہی نہیں پوری قوم پر حملہ ہے۔ دہشت گردی کے اس بیہیمانہ واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

پیپلز پارٹی نے پیر کو اس سانحے کا معاملہ ایوان بالا، یعنی سینیٹ میں اٹھایا اور واقعے کے خلاف تحریک التوا پیش کی گئی۔ سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی تحریک التوا پر پاکستان پیپلزپارٹی کے جن رہنماوٴں کے دستخط موجود ہیں ان میں سینیٹر میاں رضا ربانی، سعیدہ اقبال، سعید غنی، مولا بخش چانڈیو اور صغریٰ امام شامل ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 25 اور 36 کے تحت اقلیتوں کے جاں و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تحریک میں استدعا کی گئی ہے کہ یہ عوامی اہمیت اور قومی امور کا انتہائی اہم معاملہ ہے جسے فوری طور پر ایوان میں زیر بحث لایا جانا ضروری ہے۔ لہذا، اس اہم مسئلے کو ایوان کی کارروائی روک کر فوری زیر بحث لایا جائے۔

ادھر پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی رکن سعدیہ سہیل نے واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد جمع کرائی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان سانحہ پشاور کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ یہ ایوان مسیحی برادری سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یقین دلاتا ہے کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں اس کے ساتھ ہے۔

سینیٹ اور پنجاب اسمبلی کی طرح ہی سندھ اسمبلی میں بھی سانحہ پشاور کے خلاف مذمتی قرارداد منظور ہوئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں سے سختی سے نمٹا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

اجلاس میں سانحہ پشاور کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا سیاہ لباس میں ملبوس تھیں، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے اجلاس کے دوران بازووٴں پر سیاہ پٹیاں باندھے رکھیں۔

خیبرپختونخواہ کی اسمبلی میں اپوزیشن کے 35 اراکین نے اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرائی۔ ریکوزیشن عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت اپوزیشن کے 35 اراکین نے جمع کرائی۔ اِس میں کہا گیا ہے کہ سانحہ کوہاٹی میں بے گناہ انسانی جانوں کاضیاع ہوا ہے جو قابل مذمت ہے۔

ریکوزیشن کے مطابق، صوبے میں مخدوش امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے۔
XS
SM
MD
LG