رسائی کے لنکس

پاکستان: دو جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا آغاز

  • یاسر علی منصوری

کراچی کے قریب ساحلی پٹی پر چین کے اشتراک سے ان دو بجلی گھروں کی تعمیر آئندہ چھ سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے، اور ان کی مجموعی پیداوار 2,200 میگا واٹ ہو گی۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن کرنے کے لیے اُن کی حکومت نے توانائی سے متعلق درمیانی و طویل مدت کے مربوط منصوبے بنا رکھے ہیں، اور اس مقصد کے حصول میں جوہری توانائی کی پیداوار کو نمایاں حیثیت حاصل ہو گی۔

ساحلی شہر کراچی میں منگل کو دو جوہری بجلی گھروں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی قلت کی وجہ سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور بحیثیت مجموعی ترقی کا عمل بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

’’اگر اس مسئلے پر ہم نے جلدی قابو نا پایا تو مجھے نہیں پتا پاکستان کی معیشت کس طرح ترقی کرے گی ... جہاں بجلی نہیں تو وہاں اندھیروں میں کیا کیا جا سکتا ہے، وہاں کیا ترقی ہو گی۔‘‘

چین کے اشتراک سے ان دو بجلی گھروں کی تعمیر آئندہ چھ سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے، اور ان کی مجموعی پیداوار 2,200 میگا واٹ ہو گی۔ پاکستان میں جوہری توانائی سے بجلی کی پیداوار کا یہ پانچواں منصوبہ ہے۔



وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس منصوبے سے جڑے سائنس دانوں اور انجینیئرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان بجلی گھروں کی تعمیر اندازہ لگائی گئی مدت سے قبل ممکن ہو جاتی ہے تو یہ معاشی استحکام اور ترقی میں تیزی کا ضامن بنے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ آئندہ چند برسوں کے دوران وہ ’’نیوکلیئر ویژن 2050ء‘‘ کی بنیاد رکھنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

’’اس (پروگرام) میں 2050ء تک جوہری توانائی کے ذریعے 40,000 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل کرنے کا تصور پیش کیا جائے گا تاکہ پاکستان کو مضبوط، خوشحال اور متحرک ملک بنایا جا سکے۔‘‘

وزیرِ اعظم نے تقریب میں شریک مہمانوں کو بتایا کہ اُن کی حکومت نے پن بجلی کے دو بڑے منصوبوں – دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم کی تعمیر بیک وقت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ توانائی کے بحران پر مختلف ذریعوں سے قابو پانے کے لیے کوئلے اور ہوا سے بجلی کی پیداوار اور مائع قدرتی گیس کی درآمد کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG