رسائی کے لنکس

تحفظ پاکستان بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ: اپوزیشن


قومی اسمبلی

قومی اسمبلی

حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی تحفظ پاکستان بل کو عدالت می چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمان میں حزب اختلاف سمیت حکمران اتحاد میں شامل سیاسی و مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی حکومت کے تحفظ پاکستان نامی بل کو مسترد کر دیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں نے بھی تحفظ پاکستان بل کو عدالت می چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دہشت گردی، شدت پسندی، فرقہ واریت اور لاقانونیت کے خاتمے کے لیے لائے گئے بل کی کئی شقیں ان جماعتوں کے رہنماؤں اور قانونی ماہرین کے مطابق انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے منافی ہے اور اسی بنیاد پر اس بل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور داخلہ کے رکن سید آصف حسنین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی سینیٹ سے منظوری کی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔

’’ (مجوزہ قانون کے تحت) 90 دن تک تحویل میں رکھ سکتے ہیں یا پھر مشتبہ شخص کو ملک کی کسی عدالت یا اپنی مرضی کے جج کے سامنے پیش کر کے مجرم بنا دیں اور وکیل، خاندان والوں کو اس سے ملنے نا دیا جائے یہ سب وہ بنیادی حقوق ہیں جو آپ سلب کر رہے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے ہوتے ہوئے نئے قانون کی کوئی ضرورت نہیں۔ ’’اس بل کے نفاذ کا مسئلہ ہے اسے بہتر انداز میں نافذ کریں تو چیزیں درست ہو سکتی ہیں۔ تحفظ ہاکستان نام دیا ہے مگر اس بل سے لگتا ہے ریاست کو اپنے ہی لوگوں سے خطرہ ہے۔‘‘

پارلیمان کے ایوان بالا میں حزب اختلاف کی اکثریت ہے اور اس سے پہلے قائمہ کمیٹی میں اس بل کا جائزے لیتے ہوئے حکومت کے اراکین نے حزب اختلاف کے اعتراضات کو درست تسلیم کرتے ہوئے بھی بل میں ترمیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عدالت عظمیٰ میں اس کے خلاف درخواست پر اس بل کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

’’اس میں ایک بورڈ کے بارے میں کہا گیا ہے جو ایسی گرفتاریوں کا وقت فوقتاً جائزہ لے گا۔ غیر ملکی عسکریت پسند دشمنوں کے کوئی حقوق اس قانون کے تحت نہیں ہوں گے۔‘‘

بل میں ترامیم کر کے کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق ان قیدیوں پر بھی ہو گا جو کہ اس کے متعارف کروانے سے پہلے پکڑے گئے، جو کہ سلمان اکرم کے مطابق ’کوئی اچھی بات نہیں اور اسی وجہ سے بھی اس پر تنقید کی جا رہی ہے۔‘‘

قومی اسمبلی سے تحفظ پاکستان نامی بل کی منظوری ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب طالبان شدت پسندوں سے مذاکرات، عہدیداروں کے بقول اہم مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کا مقصد ملک میں دیرپا قیام امن ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز ملک ابرار احمد اس بل پر ہونے والی تنقید کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’کوئی ایسی بات نہیں۔ اگر کوئی سنجیدہ بات ہوئی تو ترمیم کر دی جائے گی۔۔۔۔ ہمارے مذاکرات بہت اچھے جا رہے ہیں اور ہمارا کام لوگوں کے سامنے نئے قانون رکھنا ہے کہ آئندہ کے لیے لوگ قانون سے بچنے کی کوشش نا کریں۔ ہم قانون کی رٹ قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت قوانین کے ساتھ ساتھ ان کا اطلاق اور تفتیشی و تحقیقاتی عہدیداروں اور استغاثہ کی کارکردگی کو موثر بنانے سے ہی دہشت گردی میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG