رسائی کے لنکس

لیبیا میں بیرونی مداخلت پاکستان کے لیے باعث تشویش

  • ج

اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کا ایک منظر

اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کا ایک منظر

پاکستان میں حکومت اور سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمان لیبیا میں جاری بین الاقوامی فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں تاہم اُن کا ماننا ہے کہ تمام صورت حال کے ذمہ دار خود ملک کے رہنما معمر قذافی ہیں جو گذشتہ چار دہائیوں سے شمالی افریقہ کی اس ریاست کے اُمور آمرنا انداز میں چلا رہے ہیں۔

امریکہ نے لیبیا میں باغیوں کی حمایت اور معمر قذافی کی وفادار فورسز کے خلاف مغربی ملکوں کا اتحاد قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور صدر براک اوباما نے پیر کی شب قوم سے خطاب میں اس اقدام کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فوجی مہم کا مقصد ناصرف لیبیا کے شہریوں بلکہ دنیا کے مفادات کا بھی تحفظ ہے۔

پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور حنا ربانی کھر نے امریکی صدر اوباما کے خطاب پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے خیال میں لیبیا کے مسئلے کوحل کرنے کا ”کوئی اور طریقہ“ ہونا چاہیئے تھا کیونکہ اُن کے بقول فضائی حملوں میں ہونے والا جانی نقصان کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔

”آپریشن کے دوران فریقین میں سے کسی کی بھی ہلاکتوں کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ ملک میں مصالحت ہی کے ذریعے مسائل کا حل بہترین حکمت عملی ہوگی۔“

وزیر مملکت حنا ربانی کھر

وزیر مملکت حنا ربانی کھر

اُنھوں نے بتایا کہ لیبیا میں جاری آپریشن پر پاکستان کو شدید تشویش ہے کیوں کہ اس کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ عرب دنیا کے ممالک کی سرحدی حدود کا احترام کیا جانا چاہیئے۔

پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے لیبیا کے بارے میں امریکی صدر کے اپنی قوم سے خطاب پرملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

مسلم لیگ (قائد اعظم) سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حقوق انسانی کے چیئرمین ریاض فتیانہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان سے زیادہ اہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی قراردادیں ہیں جن کے مطابق لیبیا میں گذشتہ 40 سال سے جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورت حال درست نہیں، اور وہاں کی عوام کو شفاف انداز میں اپنی نئی قیادت منتخب کرنے کا موقع ملنا چاہیئے۔

اُن کے بقول لیبیا عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے - بن غازی کے لوگ علیحدگی اختیار کر چکے ہیں جب کہ طرابلس میں معمر قذافی کی گرفت مضبوط ہے۔

”ہم نہیں چاہتے کہ غیر ملکی فورسز وہاں پر قبضہ کر لیں لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ قذافی کی فورسز اپنے ہی شہریوں پر بمباری نہ کریں اور ان کو بندوق کے زور پر دیواد سے نہ لگائیں۔“

پارلیمان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے صدر اوباما کی تقریر پر اظہار خیال کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکہ نے آج تک کوئی اقدام دنیا کے مفاد میں نہیں کیا۔

”وہ ہمیشہ اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر اس دنیا کو چلا رہے ہیں اور جس بے ڈھنگے طریقے سے چلا رہے ہیں اس کی وجہ سے لوگ غربت سے مررہے ہیں، امن وامان کا ایشو ہے اور جنگیں چھڑی ہوئی ہیں۔“

لیبیا کے رہنما معمر قذافی

لیبیا کے رہنما معمر قذافی

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ لیبیا کے رہنما نے بھی موجودہ صورت حال میں ”انتہائی گھناؤنا“ کردار ادا کیا ہے۔ ”جو شخص اپنے لوگوں کو یہ کہہ کر مارتا ہے کہ یہ کاکروچ ہیں انھیں کچل دو، تو پھر اُن کی حمایت میں کوئی نہیں آئے گا۔“

مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان محمد علی درانی نے بھی لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی پر امریکہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق صدر جارج بش کے عراق اور افغانستان میں جنگ شروع کرنے کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔ ”یہ دنیا کے لیے کتنے فائدہ مند ہوئے قوم کے سامنے ہیں۔ اس طرح کی بیرونی مداخلت کسی بھی صورت میں فائدہ مند نہیں ہوتی۔“

XS
SM
MD
LG