رسائی کے لنکس

لیبیا سے پاکستانیوں کے انخلا کی کوششیں


سرتاج عزیز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لیبیا میں 18 ہزار پاکستانی موجود ہیں، جن میں سے اب تک 3,300 افراد نے خود کو سفارت خانے میں رجسٹر کروایا ہے۔

لیبیا میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر پاکستان نے وہاں مقیم اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

وزارت خارجہ کے مطابق لیبیا میں موجودہ تمام پاکستانیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفارت خانے سے رابطہ کر کے اپنے کوائف کا اندارج کروائیں۔

حکام کے مطابق تین سے چھ ہزار پاکستانیوں کو لیبیا سے نکالا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس معاملے پر لیبیا میں پاکستان کا سفارت خانہ گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل کام کر رہا ہے۔

سرتاج عزیز نے بتایا کہ لیبیا میں 18 ہزار پاکستانی موجود ہیں، جن میں سے اب تک 3,300 افراد نے خود کو سفارت خانے میں رجسٹر کروایا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستانیوں کی واپسی کے لیے مختلف راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

’’اس کے لیے تین راستے سوچے جا رہے ہیں، تیونیس سے چارٹرڈ فلائیٹ کے ذریعے ،ایک فیری کے ذریعے مالٹا اور ایک چارٹر جہاز کے ذریعے ان کو استنبول لایا جا سکتا ہے اس کے بعد وہ ترک ائیرلائئنز کے ذریعے واپس آ سکتے ہیں۔۔۔۔ اب مختلف راستوں کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔ جو مختلف ممالک ہیں جیسے مصر، ان سے ہم رابطے میں ہیں اور ان سے ہم کہیں گے کہ یہ ہمارے لوگ ہیں ان کو آپ ویزے دے دیں۔ میرے خیال میں وہاں سے انخلا شروع ہو جائے گا اور لوگ وہاں سے آنا شروع ہو جائیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ اس وقت لیبیا کا کوئی بھی ہوائی اڈہ جہازوں کی آمدورفت کے لیے استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ اس لیے تیونس میں پاکستانی سفارتخانہ ایسے انتظامات کر رہا ہے کہ لیبیا سے آنے والے پاکستانیوں کو سرحد پر ہی تیونس کا ویزہ حاصل ہو سکے۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور ملک کے دیگر شہروں میں متحارب دھڑوں اور قبائلی ملیشیا کے مابین جاری خون ریز جھڑپوں کے باعث لیبیا میں مقیم غیر ملکی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا انخلا جاری ہے۔

لیبیا سے نکلنے والے بیشتر افراد تیونس کا رخ کر رہے ہیں جس کے باعث راس اجدیر کی سرحدی گزرگاہ ان دنوں خاصی مصروف ہے۔

تاہم گزشتہ ہفتے تیونس نے لیبیا چھوڑنے والے افراد کی ہنگامہ آرائی کے بعد لیبیا کے ساتھ اپنی مرکزی سرحدی گزرگاہ بند کردی تھی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق لیبیا میں موجود اس کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کی رجسٹریشن پہلے سے ہو چکی ہے اور ویزے کے لیے ان کی دستاویزات تیونس میں حکام کو بھجوا دی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG