رسائی کے لنکس

کشمیری نوجوانوں کے والدین ان کی سرحد پار واپسی کے منتظر


India Pakistan Kashmir

پاکستانی کشمیر کے سرحدی قصبے کھلانہ کلاں کے 14سالہ أحسن خورشيد او ر پوٹھ جنڈگراں مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ فیصل حسین کو، بھارتی میڈیا کے مطابق ا21 ستمبر کو کنٹرول لائن کے قریب اُوڑی کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

روشن مغل

گذشتہ برس مبینہ طور پر غلطی سے کنٹرول لائن عبور کرنے پر بھارت میں قید پاکستانی کشمیر کے دو عمر لڑکوں کے رشتہ داروں کو توقع ہے کہ ان کے بچے جلد رہا ہو کر اپنے گھر پہنچ جائیں گے۔

پاکستانی کشمیر کے سرحدی قصبے کھلانہ کلاں کے 14سالہ أحسن خورشيد او ر پوٹھ جنڈگراں مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ فیصل حسین کو، بھارتی میڈیا کے مطابق ا21 ستمبر کو کنٹرول لائن کے قریب اُوڑی کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اٹھارہ ستمبر کو بھارتی فوج کے ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے مبینہ حملے میں 18 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارتی میڈیا میں انہیں اُوڑی حملے کے سہولت کار اور عسکری گروپ جیش محمد کے رکن ظاہر کیا گیا تھا۔ اور اسی تنظیم کو حملے کا ذمہ دار بھی قرار دیا گیا تھا ۔تاہم کسی شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

کھلانہ کلاں کے رہائشی أحسن خورشيد کے ماموں محمد قاسم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُن کی اپنے بھانجے سے ٹیلی فون پر بات کروا ئی گئی ہے اور بھارتی عدالت نے دونوں لڑکوں کو بری کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے دونوں نوجوانوں کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کے بعد بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے حوالے کر دیا تھا ۔ بعد ازاں انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔

محمد قاسم کا کہنا تھا کہ دونوں نوجوانوں کا دهشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ سیر کی غرض سے کنٹرول کے قریب کنڈری کے سیاحتی مقام پر گئے تھے اور بھٹک کر کنٹرول لائن کی دوسری طرف پہنچ گئے ۔انہوں نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دونوں نوعمر لڑکوں کی جلد رہائی کے لئے اقدامات کیے جائیں۔

گذشتہ برس ستمبر میں اڑوی پر عسکریت پسندوں کے مبینہ حملے کے بعد سے دونوں ہمسایہ ملکوں ں کے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں اور جنگ بندی لائن گاہے گاہے گولہ باری کا تبادلہ ہو تا رہتا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود غلطی سے کنٹرول لائن عبور کر نے والے افراد کی حکام کے ذریعے واپسی کے باہمی معاہدے پر عمل درآمد ہو رہا ہے ۔اسی سلسلے میں گذشتہ روز جموں کی ایک جیل سے پاکستانی کشمیر کے ایک پانچ سالہ بچے کو اس کی والدہ کے حوالے کیا گیا۔

احسن خورشید اور فیصل حسین کے والدین اور عزیز و أقارب یہ توقع کر رہے کہ ان کے بچوں کی واپسی کے لیے تیزی سے کام کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG