رسائی کے لنکس

پاکستان میں شرح خواندگی کی شرح 58.5 فیصد ہوگئی


پاکستان میں شرح خواندگی کی شرح 58.5 فیصد ہوگئی

پاکستان میں شرح خواندگی کی شرح 58.5 فیصد ہوگئی

پاکستان میں شرح خواندگی 58.5 فیصد ہوگئی ہے جبکہ طلبہ کی مجموعی تعداد تقریباً چار کروڑ اور جامعات کی تعداد 132جبکہ بنیادی پرائمری اسکولز کی تعداد ایک لاکھ 55ہزار سے زائد ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی سال 2010-11کی لیبر فورس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دیہی علاقوں کی نصف آبادی تاحال تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہے ۔دیہی علاقوں میں مردوں میں خواندگی کی شرح64.5 فیصد اور شہری علاقوں میں 80.5ہے جبکہ دیہاتی خواتین میں خواندگی کی شرح35.6اور شہروں میں 66.4فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھرکے مردوں میں خواندگی کی شرح 70فیصد سے زائد ہے جبکہ خواتین میں خواندگی کی شرح 46 فیصد سے زیادہ ہے ۔ دیہاتی علاقوں میں خواندگی کی شرح 50 فیصد سے زائد جبکہ شہروں میں یہ شرح 74 فیصد تک ہے۔

لیبر فورس سروے میں بتایا گیا ہے کہ33فیصد کے قریب پاکستانی آبادی اقتصادی سرگرمیوں میں براہ راست شرکت کرتی ہے جب کہ دیہی علاقوں میں 34فیصد سے زائد اور شہروں میں 30فیصد افراد اقتصادی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

پاکستان کے49.3 فیصد مرد اور 17فیصد خواتین اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں ۔ شہری علاقوں کی خواتین کے مقابلے میں دیہی خواتین اقتصادی سرگرمیوں میں زیادہ شامل ہوتی ہیں ۔ اقتصادی کاموں میں گاؤں کی19فیصد سے زائد جب کہ شہروں کی8 فیصد خواتین شامل ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں افرادی قوت کا 45 فیصد سے زائد حصہ زراعت 22 فیصد تک صنعت اور 34 فیصد کے قریب خدمات کے شعبہ سے وابستہ ہے۔

پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور اس کی آبادی 18 کروڑ تک بتائی جاتی ہے جبکہ آنے والے 14برسوں میں پاکستان معاشی لحاظ سے دنیا کا 28واں بڑا ملک ہوگا۔

XS
SM
MD
LG