رسائی کے لنکس

بلوچستان: خواندگی بڑھانے اور معیار تعلیم بہتر کرنے کے لیے پرعزم


وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ (فائل فوٹو)

وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ (فائل فوٹو)

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے 83 ہزار بچوں میں مفت تعلیمی کتب کی تقسیم، صوبے میں چھ یونیورسٹیوں اور تین میڈیکل کالجز کے قیام سمیت متعدد اقدامات کیے۔

صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ صوبے میں شرح خواندگی میں اضافے اور معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

بدھ کو صوبے کے کم ترقی یافتہ علاقوں کے لیے وزیر اعظم تعلیمی فیس واپسی اسکیم کی کوئٹہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ مقصد کے حصول کے لیے صوبائی وزراء اور دیگر عہدیداروں سے مشاورتی عمل بھی جاری ہے۔

بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی ابتر حالت کا ذکر کرتے ہوئے عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ اب بھی صوبے میں اسکول جانے کی عمر کے 22 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جب کہ ساڑھے چھ ہزار اسکول ایسے ہیں جو صرف ایک کمرے اور ایک ہی استاد پر انحصار کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے 83 ہزار بچوں میں مفت تعلیمی کتب کی تقسیم، صوبے میں چھ یونیورسٹیوں اور تین میڈیکل کالجز کے قیام سمیت متعدد اقدامات کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید بہتری کے لیے بنائے گئے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے بلوچستان کو 62 ارب روپے کی ضرورت ہے جس کے لیے وفاقی حکومت اور امدادی اداروں سے رابطہ کیا جائے گا۔

"ہمارا عزم ہے کہ ہم نہ صرف اپنے بچوں کو پاکستان کے دوسرے صوبوں کے برابر لائیں گے بلکہ ہم کہیں گے کہ ہم انھیں بین الاقوامی سطح تک لے جائیں گے۔"

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم کے شعبے کے لیے اربوں روپے مختص کرنا خوش آئند ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبے میں انتظامی اصلاحات کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پاکستان کا پسماندہ ترین صوبہ ہے جب کہ حالیہ برسوں میں شدت و عسکریت پسندی کی وجہ سے دوسروں شعبوں کی طرح تعلیمی شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

دریں اثناء بدھ ہی کو ضلع تربت میں نامعلوم مسلح افراد نے اسکول کے ایک استاد کے گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے چھ افراد کو ہلاک کر دیا۔

پولیس کے مطابق مرنے والوں میں ماسٹر عبدالحمید ان کے والد اور بھائی بھی شامل ہیں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز پہلے ضلع پنجگور اور تربت میں نجی تعلیمی اداروں کے مالکان اور اساتذہ کو مخلوط تعلیم کا سلسلہ ترک نہ کرنے پر ایک مذہبی تنظیم کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ان دو اضلاع میں متعدد اسکول بند بھی کر دیے گئے۔
XS
SM
MD
LG