رسائی کے لنکس

انتہا پسندی کے خاتمے اور برداشت کے فروغ کے لیے ادبی نمائش


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ہفتہ کو شروع ہونے والے فیسٹیول کو مختلف رنگ دینے کے لیے اس میں نئی کتابوں کی رونمائی ، مذاکرے ، موسیقی، رقص اور تھیٹر کے پروگراموں بھی پیش کیے گئے۔ میلے میں گذشتہ سال کے مقابلے میں دگنی تعداد میں لوگ اپنے پسندیدہ مصنفین کو سننے کے لیے موجود تھے جن میں سے بیشتر بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔

کراچی کے ساحل کے قریب پوش علاقہ میں واقع کارلٹن ہوٹل گذشتہ روز سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں مصنفین ، نوآموز لکھاری ، طالب علم اور کتابوں کے شوقین خواتین و حضرات جوق در جوق کراچی لٹریچر فیسٹیول کا رخ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دوسری بار منعقد ہونے والے اس میلے کا مقصد جہاں ایک طرف لوگوں کو اسلامی انتہاپسندی کا رخ موڑنے کی ترغیب دیناہے تو دوسری طرف ایک مثبت پاکستان کی تصویر پیش کرنا بھی ہے جسے بیرونی دنیا میں اکثر اوقات صرف دہشت گردی سے منسلک کیا جا تا ہے۔

فیسٹیول کی منتظم امینہ سید جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی مینیجنگ ڈائریکٹر بھی ہیں ، کہتی ہیں کہ یہ ادبی فیسٹیول ہمارے مصنفین کو فروغ دینے کے لیے ہے جنھیں وہ عزت نہیں دی جاتی جس کہ وہ حقدار ہیں۔ ساتھ ہی اس کا مقصد لوگوں میں کتابیں پڑھنے اور خریدنے کے لیے دلچسپی پیدا کرنا ہے۔

فیسٹیول کو مختلف رنگ دینے کے لیے اس میں نئی کتابوں کی رونمائی ، مذاکرے، موسیقی، رقص اور تھیٹر کے پروگراموں بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔ میلے کے ایک اور منتظم اور معروف مصنف آصف فرخی نے بتایا کہ ہم ان موضوعات پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں جو ہم سب کو متاثر کرتے ہیں لیکن ان پر مکمل بحث و مباحثہ نہیں کیا جاتا۔ ان کے بقول منتظمین کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے اس دور میں کس طرح لوگوں کی توجہ ادب کی طرف کی جائے۔ ساتھ ہی انگریزی اور اردو سمیت پاکستان کی علاقائی زبانوں کا فروغ بھی ہمارا ایک مقصد ہے۔

اس نمائش کی ایک اور خاص بات سو کے قریب ملکی و غیر ملکی مصنفین اور دانشوروں کا ایک چھت تلے جمع ہونا ہے جن میں سے کچھ منتظمین کی اعانت کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں فرانس، جرمنی، امریکہ اور برطانیہ شامل ہیں جبکہ منتظمین کے بقول بھارتی مصنفین کی شرکت بھی متوقع تھی لیکن انھیں ویزے جاری نہ ہوسکے۔ کراچی لٹریچر فیسٹیول کا افتتاح معروف برطانوی مصنفہ کیرن آرم اسٹرونگ نے کیا۔ اپنی تقریر میں انھوں نے تفصیلاً ذکر کیا کہ کس طرح لوگ روزمرہ زندگی میں برداشت، شفقت اور دردمندی کو شامل کرسکتے ہیں۔

ہفتہ کو شروع ہونے والے اس فیسٹیول میں گذشتہ سال کے مقابلے میں دگنی تعداد میں لوگ اپنے پسندیدہ مصنفین کو سننے کے لیے موجود تھے جن میں سے بیشتر بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ اسلامی تاریخ کے مضمون میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ عالیہ نقوی کا کہنا تھا کہ ہر بار گھر سے باہر نکلنا خطرے سے کم نہیں لیکن بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو نظرانداز کرنا نامخلصی ہے۔

دو روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد برٹش کونسل، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور یو ایس ایڈ کے اشتراک سے کیا گیا ہے اور یہ اتوار کو اختتام پذیر ہوگا۔

XS
SM
MD
LG