رسائی کے لنکس

قطر سے ’ایل این جی‘ کی درآمد کے معاہدے پر دستخط


پاکستانی اور قطر کے درمیان ایل این جی درآمد کے معاہدے پر دستخط

پاکستانی اور قطر کے درمیان ایل این جی درآمد کے معاہدے پر دستخط

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ایل این جی بجلی کی پیداوار کے لیے کوٹ ادو پاور کمپنی اور پنجاب میں چار دیگر پیداواری یونٹس کو فراہم کی جائے گی۔

پاکستان نے قطر کے ساتھ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد اس گیس کی پہلی کھیپ رواں ماہ کے اواخر میں پاکستان پہنچ رہی ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر شاہد خان عباسی نے بتایا کہ ایل این جی کی درآمدی قیمت منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی میں پیش کی جائے گی۔

ان کے بقول ’ایل این جی‘ ملک میں آنے سے بجلی کی پیداواری لاگت میں ڈیزل کی نسبت چالیس فیصد تک کمی آئے گی۔

"پاکستان بجلی کے پیداواری یونٹس کو ڈیزل اور فرنس آئل فراہم کرنے کے لیے اس کی درآمد پر انحصار کرتا ہے اور یہ دونوں ایل این جی کے مقابلے میں قدرے مہنگے ہیں۔ ایل این جی سستا اور زیادہ موثر (بجلی پیدا کرنے کا) ذریعہ ہے، یہ صاف اور ماحول دوست بھی ہے۔"

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ایل این جی بجلی کی پیداوار کے لیے کوٹ ادو پاور کمپنی اور پنجاب میں چار دیگر پیداواری یونٹس کو فراہم کی جائے گی۔

وزیر مملکت اور سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مفتح اسماعیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ حکومت توانائی کا بحران حل کرنے اور سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے جس میں حالیہ برسوں میں خاصی شدت آچکی ہے۔ بجلی اور گیس کی طلب و رسد میں فرق سے نہ صرف گھریلو صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اس سے صنعتی شعبے کو بھی قابل ذکر حد تک نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ بجلی گھروں کو مائع قدرتی گیس پر منتقل کرنے سے پاکستان کو سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے۔

امریکہ بھی پاکستان کو توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اعانت فراہم کرتا آرہا ہے جس میں بجلی گھروں کی استعداد کار بڑھانے اور بجلی کے نظام ترسیل کو زیادہ فعال بنانے میں مدد بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG