رسائی کے لنکس

لوڈ شیڈنگ ۔۔۔فی الوقت پاکستان کاسب سے بڑا اور اہم عوامی مسئلہ ہے۔ یہی وہ ایشو ہے جس پر ’عام آدمی‘ سے لیکر ’خاص آدمی‘ تک سبھی اس سے متاثر ہیں۔ یہ مسئلہ کس طرح حل ہوگا ،اس پر عوامی رائے یہ ہے کہ”لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے بدقسمتی سے ارباب اختیار بھی کوئی واضح پالیسی نہیں رکھتے۔“

وائس آف امریکا کے نمائندے نے اس مسئلے پر عوامی رائے جاننے کی غرض سے ایک تفصیلی جائزہ کیاجس میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی گئی جس کے بعد بہت سے مختلف اور سنگین پہلو سامنے آئے جو قارئین کی دلچسپی کی غرض سے ذیل میں درج ہیں؛

لوڈ شیڈنگ میں سال بہ سال اضافہ

کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی زاہد حسین کا کہنا ہے کہ وہ ’خشک ترین‘ اعدادوشمار کی بات نہیں کرتے صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہر آنے والے سال میں پچھلے سال کی نسبت لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہورہا ہے۔اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں یہ مسئلہ اتنا سنگین نہیں تھا۔ 2005ء تک تو بجلی روٹین کے مطابق ملتی تھی یا کبھی کوئی بریک ڈاوٴن ہوتا تو شور اٹھتا تھا مگر ایسا نہیں تھا کہ 20بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہو۔ 2005ء کے بعد سے صورتحال کچھ خراب ہونا شروع ہوئی مگر اتنا برا حال پھر بھی نہیں تھا۔ سردیوں میں لوڈشیڈنگ بالکل نہیں ہوتی تھی جبکہ اب کچھ سالوں سے ہر موسم میں لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ پہلے اتوار یاکسی اور چھٹی والے دن لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی تھی مگر اب دن کا بھی کوئی امتیاز نہیں رہا۔

لوڈ شیڈنگ کا حل۔۔شاید کسی کے پاس نہیں؟

شادمان ٹاوٴن کے محمد وسیم کہتے ہیں ”لوڈ شیڈنگ کا حل شاید کسی کے پاس نہیں۔ پچھلی حکومت آمر کی تھی تو یہ جمہوری حکومت ہے ۔ اس دور میں بھی بجلی نہیں تھی، اس دور میں اس سے بدترصورتحال ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس مسئلے کا کسی کے پاس کوئی حل نہیں۔ ملک میں توانائی کے مسئلے پر تین قومی کانفرنسز ہوچکی ہیں۔ سب سے تعجب خیز کانفرنس گزشتہ روز ہونے والی کانفرنس رہی جس میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے کوئی حکمت عملی پیش کرنے کے بجائے ، لوڈ شیڈنگ کو پورے ملک میں یکساں کرنے پر بحث ہوئی۔ یکساں لوڈشیڈنگ سے مراد کہیں یہ تو نہیں کہ جوحال پنجاب میں لوڈشیڈنگ کا ہے وہی حال باقی ملک کا بھی ہو یعنی 20بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ۔ “

کیانئی آبادیاں اور نئی کثیراولمزلہ عمارات بجلی کو ترسیں گی؟

کراچی کے ایک تاجر نواز سومرو کا کہنا ہے ”ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے نئی بستیاں آباد ہورہی ہیں، فلیٹس اور کثیر المنزلہ رہائشی و تجارتی عمارات کا جنگل آباد ہورہا ہے ۔۔اس پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ ملک میں ویسے ہی بجلی کا بحران ہے تو کیا یہ عمارات اور نئی آبادیاں بجلی کو ترسیں گی؟ جدید ترین ہونے کے باوجودان پر اندھیروں کا راج ہوگا؟ لگتا تو یہی ہے کہ یہ مسئلہ آئندہ کئی سالوں یا دہائیوں تک حل نہیں ہوگا پھر ان کا مستقبل کیا ہوگا کیوں کہ حکومت کے پاس نہ تو بجلی کی پیداوار بڑھانے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے اور نہ نئی آبادیوں اور رہائشی یونٹس پر نئے کنکشن کی کوئی پابندی ہے۔ میرے نزدیک یہ لمحہ فکریہ ہے“

چوری روکنے پر کوئی قید نہیں

کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ایک عہدیدار عابد حسین کا کہنا ہے کہ” ملک میں لوڈ شیڈنگ کی سب سے بڑی وجہ خود عوام ہے۔ وہ عوام جو بجلی چوری کرتی ہے۔ ہمارے یہاں معمولی الیکٹریشن سو پچاس روپے میں کنڈا ڈال دیتا ہے۔ ایک ایک گھر میں تین تین فیز سے کنڈے ڈلے ہوئے ہیں۔ایسی صورت میں ادارے کے پاس اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے پیسہ کہاں سے آئیگا۔ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے نئے منصوبے کس طرح شروع ہوسکیں گے۔“

ڈیمز کی تعمیر۔۔۔ سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا

شہرقائد کے سینئر سیاسی تجزیہ نگار اور صحافی جمیل فریدی بیان کرتے ہیں” لوڈ شیڈنگ کی تمام تکالیف برداشت کرنے کے باوجودہماری سیاسی پارٹیاں اور بعض سیاست دان ڈیمز بنانے کے حق میں نہیں۔ حیرت انگیر طور پر کئی سیاسی پارٹیوں کے منشور میں نئے ڈیمز کی تعمیر کے لئے مخالفت تحریری شکل میں موجود ہے، ایسے میں نا ڈیمز بنیں گے ، نہ ملک میں سستی بجلی پیدا ہوگی اور نہ لوڈ شیڈنگ سے نجات ملے گی“

بھیانک نقصانات

”لوڈشیڈنگ کے وٴبھیانک نتائج نکل رہے ہیں“یہ کہنا ہے ایک تاجر محمد بلال کا۔ وہ مزید کہتے ہیں” کارخانوں اور فیکٹریوں میں گھنٹوں ، گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کے سبب پروڈکشن بند ہے۔ ٹیکسائل انڈسٹری ہو یا فرٹیلائز سب اس مسئلے کے سبب تباہی کے دہانے پرہیں۔ ایسے میں سرمایہ کار ملک میں آنے کے لئے تیار نہیں اور جو مقامی تاجر ہیں وہ اپنا اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ میرے نزدیک لوڈ شیڈنگ کے مسئلے سے نجات نہ دلاپانے میں جتنی حکومت ذمے دار ہے اپوزیشن کا بھی اتنا ہی بڑا کردار ہے۔ پچھلے چار سالوں میں اپوزیشن نے حکومت کو غیر ضروری مسائل میں الجھائے رکھا، حکومت کی ہر معاملے میں ٹانگیں کھینچی جاتی رہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کی طرف توجہ دے ہی نہیں سکی ورنہ شاید لوڈ شیڈنگ اور دوسرے کئی مسائل اب تک حل ہوگئے ہوتے یا کم ازکم اتنی بری صورتحال نہ ہوتی جتنی اس وقت ہے۔ “

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG