رسائی کے لنکس

لوڈ شیڈنگ سے بدحال کراچی، صنعتی حلقوں کی بل ادا نہ کرنے کی تنبیہ


لوڈ شیڈنگ سے بدحال کراچی، صنعتی حلقوں کی بل ادا نہ کرنے کی تنبیہ

لوڈ شیڈنگ سے بدحال کراچی، صنعتی حلقوں کی بل ادا نہ کرنے کی تنبیہ

1935ء میں" مشرق کی ملکہ" اور موجودہ دور کا "روشنیوں کا شہر"کراچی ان دنوں بدترین لوڈ شیڈنگ کے سبب اندھیروں کا مسکن بنا ہوا ہے۔ ایسے دور میں جب مغرب ہی نہیں ایشیائی ممالک کے باسی بھی پوچھتے ہیں کہ "لوڈ شیڈنگ کیا ہوتی ہے" ، کراچی کی تاجر برادری و صنعتی حلقے شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی سے اس قدر نالاں ہیں کہ انہوں نے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

بدھ کے روز اردو وی او اے کے اس نمائندے نے لوڈ شیڈنگ سے بے حال کراچی کے گھریلو اور صنعتی صارفین کے خیالات جاننے کی کوشش میں شہر بھر کا سروے کیا ۔ سروے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ بنا ہوا ہے ۔

گوکہ ٹارگٹ کلنگز ، ملیریا، ڈینگی اور اسٹریٹ کرائم کی شرح بھی کچھ کم نہیں لیکن لوگوں کی رائے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لوڈ شیڈنگ اس وقت نہ صرف سب سے بڑا مسئلہ ہے بلکہ یہ لوگوں پر نفسیاتی اثرات بھی مرتب کررہاہے۔ لیاقت آباد، گولیمار، پرانا گولیمار اور لیاری جیسے تنگ علاقوں کے صارفین گرمی کے سبب کئی کئی گھنٹے چھوٹے چھوٹے گھروں ،تنگ کارخانوں اور ہوا کا گزر بھی نہ رکھنے والی بستیوں سے باہر نکلنے پر مجبور ہیں، ان کا مزاج چڑ چڑا ہوگیا ہے، غصہ برداشت نہیں اور بات بات پر لڑنے پر آمادہ ہیں۔ لوڈ شیڈنگ اور نیند پوری نہ ہونے کے سبب انسانی رشتوں میں برداشت کا مادہ کم ہورہا ہے اور معاشرے میں لڑائی جھگڑے عام ہونے لگے ہیں۔

بدترین صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ چار روز سے جاری لوڈشیڈنگ میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگیا ہے اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12گھنٹے تک بڑھ گیا ہے ۔ صنعتی علاقوں میں بارہ جبکہ رہائشی علاقوں میں دس گھنٹوں تک کی لوڈشیڈنگ معمول ہوگئی ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثرہورہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ کراچی میں وی او اے کے لئے تیار کی جانے والی یہ رپورٹ بھی لوڈ شیڈنگ کے دوران بیٹری کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔

گوکہ موسم میں بہتر ی اور بجلی کے خرچ میں کمی کے باعث پیپکو نے ملک کے دیگر علاقوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا وہی حال ہے ۔ لیاری آگرہ تاج کالونی، کھارادر، نیو کراچی سیکٹر 5 بی، کلفٹن، ناظم آباد نمبر 2، گولیمار چورنگی اور برنس روڈ سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے ۔

کے ای ایس سی کی جانب سے موجودہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے گیس کی لوڈ شیڈنگ بتائی جارہی ہے ۔کے ای ایس سی کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی 130 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 80 ایم ایم سی ایف ڈی ہوگئی ہے جس کے باعث لوڈشیڈنگ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

شیڈول کے تحت زیادہ بجلی چوری ہونے والے علاقوں میں چار بار 2گھنٹے، درمیانی علاقوں میں تین بار ڈیڑھ گھنٹے اور کم چوری ہونے والے علاقوں میں تین بار 2بجے سے تین بجے تک، 6سے 7بجے شام اور رات 11سے 12بجے تک لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جبکہ صنعتی علاقوں میں بجلی چار چار گھنٹہ کیلئے بند کی جارہی ہے ۔ کے ای ایس سی حکام کا کہنا ہے فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار مہنگا طریقہ ہے اور اس کابراہ راست اثر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔

لوڈ شیڈنگ سے گھریلو صارفین تو پریشان ہیں ہی کاروباری اور صنعتی صارفین کا حال اس سے زیادہ برا ہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین سید جوہر علی قندھاری کا کہنا ہے کہ صنعتی علاقوں میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے صنعتی اداروں میں پیداواری عمل بری طرح متاثر ہواہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر لوڈ شیڈنگ کا دائرہ کار مزید بڑھا تو صنعت کاربجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی روک دیں گے ۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سابق چیئرمین میاں زاہد حسین کا کہنا ہے کہ حکومت فوری طور پرکے ای ایس سی کو یومیہ 300 میگا واٹ اضافی بجلی مہیا کرے تاکہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کراچی میں پیداواری عمل نہ رکے اور اس کے نتیجے میں حکومت کو ریونیو کا نقصان نہ ہو۔

جوہر علی قندھاری کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر صنعتی اداروں میں لوڈ شیڈنگ کی گئی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جس سے عوام میں حکومت کے خلاف شدید رد عمل پیدا ہوسکتا ہے۔

ادھر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین فراز مرزا کا کہنا ہے "سمجھ میں نہیں آرہا فیکٹریاں کس طرح چلائیں۔ نارتھ کراچی صنعتی ایریا کے چھوٹے اور درمیانی درجے کے صنعتکاروں کے لئے یہ مسئلہ زیادہ گمبھیر ہوگیا ہے۔ وہ اپنے محدود وسائل میں جنریٹرز خریدنے سے معذور ہیں۔ ورکرز کو چار گھنٹے خالی بٹھانا بھی ان کے لئے ممکن نہیں اور چھٹی کرنے کی صورت میں برآمدی اشیاء کی پیداوار ممکن نہیں۔ اس طرح برآمدی آرڈرز کی تکمیل وقت پر کرنا ممکن نہیں۔اگر یہی حال رہا تو بڑی تعداد میں فیکٹریاں بند ہوجائیں گی"۔

بجلی کی بندش کے سبب شہر میں کئی چیزوں خاص طور پر آٹے اورپینے کے پانی کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ کراچی کی74 فلورملز یومیہ 5 ہزار ٹن آٹا پیستی ہیں تاہم طویل لوڈشیڈنگ سے آٹے کی سپلائی متاثر ہورہی ہے۔ ا گر لوڈشیڈنگ کا یہ دورانیہ مزید چند روز جاری رہا تو آٹے کی طلب و رسد میں فرق پیدا ہونے سے آٹے کا بحران پیدا ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG