رسائی کے لنکس

بجلی کی بندش سے ذہنی امراض میں اضافہ

  • افضل رحمن

پاکستان کے ایک فلاحی ادارے کی طرف سے قائم ذہنی مریضوں کے مرکز کا ایک منظر

پاکستان کے ایک فلاحی ادارے کی طرف سے قائم ذہنی مریضوں کے مرکز کا ایک منظر

فاوٴنٹین ہاوٴس لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضیٰ نے جو ایک ماہر ِنفسیات بھی ہیں وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں یوں تو بہت مسائل ہیں لیکن بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی شکل میں مسئلہ کافی گھمبیر شکل اختیار کرچکا ہے۔” لوگوں کی نیندیں پوری نہیں ہورہیں اور وہ بیزار رہتے ہیں اور بجلی کی بندش سے لوگوں کا کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے اور بیروزگاری بڑھتی ہے۔“

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ چار گھنٹے مسلسل نیند کے بعد گہری نیند کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کو انسانی جسم اور ذہن کی صحت کے لیے بہت ضروری سمجھا جاتا ہے تاہم لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے آبادی کی اکثریت کو چونکہ اتنے گھنٹوں کے لیے مسلسل بجلی میسر نہیں ہوتی لہٰذا وہ صحیح طور پر سو نہیں سکتے اور یوں اْن کی ذہنی بے چینی مسلسل بڑھتی رہتی ہے جس سے امراض پیدا ہوتے ہیں۔

جناح ہسپتال لاہور کے نفسیاتی امراض وارڈ کے ڈاکٹر نبیل احمد بھی اس سے متفق ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ جہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے لوگوں کے کاروبار بند ہوئے ہیں اور کارکن بے روزگار ہوئے ہیں وہاں اْن کے پاس اس امر کے واضح شواہد ہیں کہ بعض لوگ بیروزگاری کے دباوٴ میں آکر ذہنی امراض میں مبتلا ہوئے ہیں اور خود کشیوں کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

فاوٴنٹین ہاوٴس لاہور ملک میں ذہنی امراض کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ یہ امریکہ کے شہر نیو یارک میں قائم فاوٴنٹین ہاوٴس کی طرز پر بنایا گیا ہے اور یہاں انتہائی جدید طریقے سے ذہنی امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس اسپتال میں چار سو بستر کی گنجائش ہے اور پاکستان بھر سے مریض یہاں آتے ہیں۔

فاوٴنٹین ہاوٴس لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضیٰ نے جو ایک ماہر ِنفسیات بھی ہیں وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں یوں تو بہت مسائل ہیں لیکن بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی شکل میں مسئلہ کافی گھمبیر شکل اختیار کرچکا ہے۔” لوگوں کی نیندیں پوری نہیں ہورہیں اور وہ بیزار رہتے ہیں اور بجلی کی بندش سے لوگوں کا کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے اور بیروزگاری بڑھتی ہے۔“

لوڈ شیڈنگ کوڈاکٹر عمران نے ایک دو دھاری تلوار قرار دیا جس سے اْن کے بقول ایک طرف دماغی صحت متاثر ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیروزگاری ، جرائم میں اضافے اور معاشرے میں تشدّد کا سبب بنتی ہے۔

اْنہوں نے بتایا کہ پاکستان سائیکی ایٹرک سوسائٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نیند اور ذہنی سکون پر گہرے منفی اثرات دیکھنے میں آئے ہیں جو اضطرابی کیفیات میں مزید اضافہ کررہے ہیں۔

ڈاکٹر عمران مرتضیٰ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں فاوٴنٹین ہاوٴس میں نہ صرف آنے والے ذہنی مریضوں کی تعداد بڑھی ہے بلکہ اس اسپتال میں جو چار سو سے زیادہ دماغی مریض زیرِ علاج ہیں اْن کو دی جانے والی دوائی کی خوراک بھی بڑھانی پڑرہی ہے۔”آوٴٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافے اور زیرِ علاج مریضوں کی بے چینی بڑھنے کی بڑی وجہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے۔

اسپتال کے اندر داخل مریضوں پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے اثرات کا تو ہمیں براہِ راست مشاہدہ ہوتاہے۔ مریضوں کو پْر سکون رکھنے کے لیے اسپتال کے عملے کی تعداد بھی بڑھانا پڑ رہی ہے کیونکہ ذہنی مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے متعین عملہ ہی ایسی صورتحال میں مریضوں کو پْرسکون رکھنے کے لیے موثر انداز میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اسپتال کے اس اضافی عملے ہی نے رپورٹ دی ہے کہ ذہنی مریضوں کو پْر سکون رکھنے کے لیے دوائیوں کی خوراک بڑھائی جارہی ہے۔ “

ڈاکٹر عمران مرتضیٰ نے کہا کہ اْن کے اسپتال میں جنریٹرز بھی موجود ہیں مگر پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کے مسائل بھی رہتے ہیں اور جنریٹرز کو مسلسل چالو حالت میں رکھنا بھی مشکل کام ہے۔

ڈاکٹر عمران مرتضیٰ نے کہا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو ہم براہِ راست ذہنی امراض سے منسلک تو نہیں کرسکتے لیکن بالواسطہ طور پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عوام کے ذہنی سطح پر منفی اثرات مرتب ہونے کی تردید بھی ممکن نہیں ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ وہ ماہر ِ نفسیات ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ لوگوں کے برتاوٴ کا بغور مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔” سڑکوں پر آپس میں لڑائی جھگڑے آج کل کچھ زیادہ دیکھنے میں آرہے ہیں اور برداشت کا مادہ کم ہوتا دکھائی دیتا ہے جس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے منفی اثرات بھی یقیناً ان اسباب میں شامل ہیں۔“

حکام بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ اْنہیں لوڈ شیڈنگ سے پیدا ہونے والی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے اور یہ کہ حکومت اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور وہ حالیہ برسوں میں نہ صرف دو ہزار میگا واٹ اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کرچکی ہے بلکہ بجلی کی پیدوار کے کئی منصوبوں پر عمل درآمد بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

XS
SM
MD
LG