رسائی کے لنکس

پاکستان میں شدید گرم موسم میں بجلی کی طویل بندش نے عوام کو بے حال کر دیا ہے جب کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہیں۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی بیلم حسنین کے گھر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کرنے والوں پر ان کے محافظوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جب کہ مظاہرین نے ان پر پتھراؤ بھی کیا۔

جب کہ کمالیہ ہی میں رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ کے گھر پر حملے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر ان کے گارڈز کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

کمالیہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے جب کہ پنجاب کے دیگر شہروں بشمول بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، چنیوٹ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور جلاؤ گھیراؤ کی صورتحال زور پکڑتی جا رہی ہے۔

پنجاب کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کی طرف سے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان کو نشانہ بنایا گیا۔

کمالیہ میں بجلی کی بندش سے تنگ مظاہرین نے فیصل آباد جانے والی مرکزی شاہراہ بلاک کر دی اور پولیس کی گاڑی کو نذر آتش کرنے کے علاوہ کئی املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔

ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ شہر راولپندی میں بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

بجلی کے اس بحران پر قابو پانے کے لیے منگل کو وزیراعظم گیلانی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس بھی ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کو بجلی کے پیداواری یونٹس کو ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تاکہ آئندہ 10 روز میں بجلی کی مجموعی پیداوار کو ساڑھے 13 ہزار میگا واٹس کی سطح پر پہنچایا جاسکے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے بجلی کی ترسیل سے متعلق اداروں کو ملک بھر بالخصوص دور دراز اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں بجلی کی مساوی فراہمی کی ہدایت کی۔

XS
SM
MD
LG