رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ کا بلدیاتی انتخابات ستمبر میں کرانے پر اصرار


سپریم کورٹ

سپریم کورٹ

پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا حلقہ بندیوں جیسے ضروری اقدامات اگر نا کیے گئے تو بلدیاتی انتخابات کے لیے کی جانے والی کوششیں بے سود ثابت ہوں گی۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات ستمبر تک کروائیں تاہم الیکشن کمیشن اور حکومتی وکلاء کا کہنا تھا کہ تین ماہ سے قبل ممکن نہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت اعظمیٰ کے تین رکنی بینچ کے سامنے حکومت پنجاب، سندھ اور اور الیکشن کمیشن کے وکلاء کا کہنا تھا انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کروانا لازمی عمل ہے اور اس کے لئے کم از کم تین ماہ کا وقت درکار ہوگا۔

پنجاب کے قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل مصطفیٰ رمدے نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام متعارف کروانے کے لیے قانون سازی کا عمل شروع کرتے ہوئے اس بارے میں ایک مسودہ صوبائی کابینہ میں جمعرات کو پیش کردیا ہے تاہم انتخابات کروانے کے لیے ان کے بقول حلقہ بندی ایک رکاوٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا حلقہ بندیوں جیسے ضروری اقدامات اگر نا کیے گئے تو بلدیاتی انتخابات کے لیے کی جانے والی کوششیں بے سود ثابت ہوں گی۔

تاہم خیبر پختونخواہ کی حکومت نے عدالتی حکم کے مطابق طے کردہ تاریخ پر صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سماعت کے بعد وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ سید ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط انتخابات اکتوبر تک کروا سکے گی۔

’’حلقہ بندی تو ہمارا بھی مسئلہ ہے مگر ہماری حکومت نے طے کیا ہے کہ اسے جلد سے جلد کرنا ہے۔ ہم نے بلدیاتی رولز کو تبدیل کرکے الیکشن کمیشن کو انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کی درخواست کردی ہے۔‘‘

گزشتہ روز عدالت اعظمیٰ نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ عدالت کو اپنے علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی تاریخ بتائیں۔

پنجاب اور سندھ حکومتوں کی طرف سے جوابات پر بظاہر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے دونوں صوبوں میں وہی حکمران جماعتیں اور وزراء اعلیٰ کے ہونے کے باوجود آئین کے تحت بلدیاتی نظام کو وہاں متعارف نہیں کیا گیا۔ ان کا اصرار تھا کہ پورے ملک میں انتخابات ستمبر میں ہونے چاہیں ۔

11 مئی کے انتخابات کے بعد صوبہ پنجاب میں وزیراعظم نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ دوبارہ برسراقتدار آئی جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی۔ ملک کی تمام بڑی جماعتیں اپنے منشور اور انتخابی مہم میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے بلدیاتی نظام کے نفاذ کا وعدہ کر چکی ہیں۔

نواز لیگ کے رہنما اور خیبرپختونخواہ کے سابق وزیر اعلیٰ صابر شاہ نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار اراکین پارلیمان کو قرار دیا کیونکہ ان کے بقول وہ اپنے اختیارات اور حاصل ہونے والے ترقیاتی فنڈز سے محروم نہیں ہونا چاہتے۔

’’اراکین پارلیمان حکومتیں بھی بناتے ہیں اور حکومتیں ان کے ہاتھوں بلیک میل بھی ہوتی ہیں۔ لیکن ہمیں اس عمل کو روکنا ہوگا۔ یہ (بلدیاتی انتخابات) نا صرف آئینی ضرورت ہے بلکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچتے ہیں۔ بلدیاتی نظام ایک ایسی نرسری ہے جس سے آپ کو لیڈر ملتے ہیں۔‘‘

عدالت اعظمیٰ نے حکومت پنجاب سندھ اور بلوچستان اور الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ 22 جولائی تک بلدیاتی انتخابات سے متعلق اپنے تحریری جوابات عدالت میں پیش کریں جس کے بعد سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ اس بارے میں احکامات جاری کرے گا۔
XS
SM
MD
LG