رسائی کے لنکس

کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی نظام کی بحالی


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کی حکومت نے کراچی اور حیدرآباد میں 2001ء میں متعارف کرایا گیا بلدیاتی نظام بحال کر دیا گیا ہے۔

سندھ کے گورنر عشرت العباد نے ہفتہ کی شب کراچی اور حیدرآباد میں گزشتہ ماہ دوبارہ نافذ ہونے والے کمشنری نظام کے خاتمے سے متعلق حکم ناموں پر دستخط کیے، جن کے تحت ان کی بطور اضلاع سابقہ حیثیت بھی بحال ہو گئی۔

یہ پیش رفت حکمران پیپلز پارٹی اور کراچی کی بااثر جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے درمیان دو روز سے جاری مذکرات کے بعد سامنے آئی۔

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے عشرت العباد نے جمعہ کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی جس کے بعد حکمران جماعت کے ایک اہم رہنما اور سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے گورنر سندھ سے کراچی میں تفصیلی بات چیت کی۔

گورنر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد بابر اعوان نے عشرت العباد کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کراچی اور حیدر آباد کی ضلعی حیثیت بحال ہونے کا اعلان کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں تمام اُمور تین مراحل میں مکمل ہوں گے اور آئندہ ماہ تک مزید اقدامات بھی واضح ہو جائیں گے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے حالیہ انتخابات کے موقع پر سیاسی اختلافات کے بعد ایم کیو ایم مرکز اور صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومتوں سے علیحدہ ہو گئی تھی اور عشرت العباد کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران اسپیکر صوبائی اسمبلی نثار کھوڑو نے قائم مقام گورنزکی حیثیت سے سندھ لوکل کورنمنٹ آرڈیننس 2011ء جاری کرکے سند ھ میں کمشنری نظام کا نفاذ کر دیا تھا.

آرڈیننس کے تحت صوبے کے پرانے پانچ ڈویژنز کی بحالی کے ساتھ ہی کراچی کے 18 ٹاؤنز پانچ اضلاع میں تبدیل ہو گئے تھے۔

ہفتہ کو نیوز کانفرنس سے خطاب میں بابر اعوان نے کہا کہ ”سندھ میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس پر عمل درآمد سے کراچی اور حیدر آباد اضلاع کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔“

اس موقع پر گورنر عشرت العباد کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں استحکام چاہتی ہے۔ ”ملک جن حالات اور مشکلات سے گزر رہا ہے، ان کو سدھارنے کے لیے اور ان چیلنجو ں کا مقابلہ کرنے کے لیے ... ظاہر ہے کوئی باہر سے آکر اس کو ٹھیک نہیں کرے گا۔“

مزید برآں نیوز کانفرنس میں بتایا گیا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان صوبے میں پولیس آرڈر 2002ء بحال نا کرنے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ صوبہ سندھ میں اس قانون کا نفاذ نثار خھوڑو کے 9 جولائی کو جاری کردہ ایک الگ آرڈیننس کے ذریعے ختم کر دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG