رسائی کے لنکس

لانگ مارچ رواں دواں، اسلام آباد میں انتظامات مکمل


جناح ایونیو پر جلسے کی جگہہ پر موجود خواتین

جناح ایونیو پر جلسے کی جگہہ پر موجود خواتین

اسلام آباد میں جلسے کی اجازت کے بعد مختص کی گئی جگہ پر بھی پیر کی صبح ہی سے لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری کی طرف سے انتخابی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات جیسے مطالبات کے لیے حکومت کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ میں شامل افراد کے لیے وفاقی دارالحکومت میں جلسے کے لیے ایک جگہ مختص کردی گئی ہے۔

اتوار کی دوپہر لاہور سے روانہ ہونے والا قافلہ تاحال جی ٹی روڈ پر رواں دواں ہے جس میں دیگر شہروں سے آنے والے قافلے بھی شامل ہورہے ہیں۔

پیر کی صبح کھاریاں کے مقام پر لانگ مارچ کے مختصر قیام کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طاہر القادری نے ایک بار پھر لوگوں کو اس مارچ میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود وہ اسلام آباد میں ان کے بقول لاکھوں لوگوں کو جمع کریں گے۔

ادھر اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے مارچ کے شرکا کے لیے ایک مرکزی شاہراہ جناح ایونیو پر اسٹیج بنانے کی اجازت کے بعد سے ہی وہاں تحریک منہاج القرآن کے مقامی اور دیگر شہروں سے پہلے ہی اسلام آباد پہنچنے والے کارکن جمع ہونا شروع ہوگئے۔ قبل ازیں طاہر القادری نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر دھرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

جناح ایونیو پر موجود جلسے کے شرکا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مطالبات کی منظوری تک یہاں موجود رہیں گے۔



سیالکوٹ سے آنے والی ایک خاتون فائزہ نے کہا ’’نظام بدلا جائے گا، سرعام بدلا جائے گا اور ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں بدلا جائے گا۔‘‘ اٹک سے شریک ایک شخص لیاقت کا کہنا تھا ’’ ہم آئین کی بالادستی کے لیے یہاں آئے ہیں اور آئین کی بالادستی کے لیے امن میں رہتے ہوئے اپنا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جناح ایونیو اور اس کے ارد گرد کے علاقوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کردیا گیا ہے جب کہ پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر اہم حساس عمارتوں والے علاقے ریڈزون کو جانے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیئے گئے ہیں۔

لانگ مارچ میں شریک گاڑیوں کو ایف نائن پارک اور اس کے گردونواح میں کھڑا کیا جائے گا جہاں سے شرکا پیدل مرکزی اسٹیج تک آئیں گے۔

اسلام آباد میں اضافی آٹھ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جب کہ شہر کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت لانگ مارچ کو روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور سکیورٹی خدشات کی بنا پر ہی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

حکومتی عہدیداروں سمیت بعض سیاسی جماعتوں کے رہنما کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب آئندہ عام انتخابات کے لیے سیاسی جماعتیں تیاریاں کررہی ہیں، طاہر القادری نے غیر واضح ایجنڈے کے ساتھ مارچ کا اعلان کیا ہے جس سے ان کے بقول جمہوری عمل کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG