رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی نے کہا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے سے روک سکے: صدارتی ترجمان

چودہ جنوری کے لانگ مارچ پر حکومت اورتحریک منہاج القرآن کھل کر آمنے سامنے آ گئیں۔ بہ الفاظ دیگر، اسلام آباد کو ممکنہ طور پر تحریر اسکوائر بننے سے بچانے کیلئے پیپلزپارٹی کی کراچی اورڈاکٹر طاہر القادری کی اسلام آباد میں حکمت عملی قریب قریب طے پاگئی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکمت عملی

بدھ کو حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی نے بلاول ہاوٴس کراچی میں صدر آصف علی زرداری کی سربراہی میں لانگ مارچ سے متعلق امور طے کرنے کیلئے سر جوڑلئے۔اس موقع پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ، وفاقی وزرا اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے شرکا کو ڈاکٹر طاہر القادری اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے ہونے والی اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کےمطابق کور کمیٹی کا کہنا تھا کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے سے روک سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابات میں التوا کی کوئی وجہ موجود نہیں،افغانستان اور عراق میں جنگ کے دوران انتخابات ہوئے ۔بعض عناصر انتخابات میں رکاوٹ اور انتخابی عمل کا التوا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا کہنا تھا کہ کسی بھی مہم جوئی کی اجازت نہیں دی جائیگی اور ہر صورت عوام کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے گا۔

ہم خیال جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ

ذرائع ابلاغ تصدیق کر رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے لانگ مارچ روکنے کیلئے طاہر القادری سے مذاکرات کے بجائے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی ہم خیال جماعتوں جن میں اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن ، جے یو آئی ف ، اسمبلی کے باہر تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں شامل ہیں ، ان سے رابطہ کیا جائے گا۔

ایم کیو ایم کو منانے کی کوششیں

پیپلزپارٹی نے اس مقصد کیلئے وفاقی وزرا ٴ سید خورشید شاہ ، فاروق ایچ نائیک ، نذر محمد گوندل اور رضا ربانی پر مشتمل چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو منانے میں بھی مصروف ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جمعرات کوایم کیو ایم کا ایک وفد کراچی میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرے گا جس میں صدر کو تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب جس وقت کراچی میں پیپلزپارٹی اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی تھی اسی وقت طاہر القادری اسلام آباد میں وکلا سے خطاب کر رہے تھے۔ میڈیا پر پیپلزپارٹی کی اس حکمت عملی پر انہوں نے آئین پاکستان کی دستاویزات ہاتھ میں اٹھا کر انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ حکومت ان سے مذاکرات کر ہی نہیں سکتی کیونکہ اس میں مذاکرات کی جرات ہی نہیں۔ وہ صرف آئین کی بات کرتے ہیں جبکہ حکمرانوں کو آئین کا کچھ پتہ نہیں۔

سانپ اور نیولے

طاہر القادری نے لانگ مارچ کیلئے وزارت داخلہ کا سیکورٹی پلان بھی مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ لانگ مارچ کے شرکا کے شناختی کارڈ ضرور چیک کرے لیکن وہ بھی شناختی کارڈ چیک کرنے والوں کی وردیاں اتار کر چیک کریں گے کہ کہیں ان کی کمر پر ٹیٹو کے نشانات تو نہیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں سانپ ہونگے لیکن لانگ مارچ کے شرکا سانپوں سے ڈرنے والے نہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے قیام سے اب تک جو اس ملک پر مسلط سانپ ہیں وہ باہر آئیں ، اگر وزارت داخلہ کے پاس سانپ ہیں تو ہمارے پاس نیولے ہیں۔

پنجاب حکومت بھی میدان میں

طاہر القادری نے کہا کہ وفاق کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ میں طالبان حملہ کریں گے ، طالبان نے تردید کی تو پنجاب حکومت میدان میں آ گئی اور انکشاف کیا کہ ایک نئی دہشت گرد تنظیم لانگ مار چ پر حملہ کرنے والی ہے۔ اگر آپ اتنے ہی باخبر ہیں تو ملک میں جاری دہشت گردی کو روکتے کیوں نہیں ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقی حکومت دہشت گردوں کی روک تھام میں ناکام ہو چکی ہے ۔

طاہر القادری نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ انتخابات کا التوا نہیں چاہتے۔ البتہ، انتخابی نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں اور اس کیلئے زیادہ وقت درکار نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لانگ مارچ کو غیر آئینی قرار دینے والے خود قانون کے مطابق عوام کو حقوق دینے میں ناکامی کے بعد غیر آئینی ہو چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ، لیکن 14 جنوری کے بعد کسی میں جرات نہیں ہو گی کہ وہ مقدس ادارے کے فیصلوں کا مزاق اڑا سکے۔
XS
SM
MD
LG