رسائی کے لنکس

فوری امداد نہ ملنے پر بعض منصوبے بند کرنے پر مجبور ہوں گے، اقوام متحدہ


فوری امداد نہ ملنے پر بعض منصوبے بند کرنے پر مجبور ہوں گے، اقوام متحدہ

فوری امداد نہ ملنے پر بعض منصوبے بند کرنے پر مجبور ہوں گے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ مالا کنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقوں میں لڑائی سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال اور ان کی بحالی کے منصوبوں کے لیے پیسوں کی قلت کے باعث عالمی تنظیم اپنی بعض امدادی سرگرمیوں کو معطل کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے پاکستان میں دفتر برائے اُمورِ انسانی ہمدردی کے ادارے کے سربراہ مینول بیسلر نے وائس آف امریکہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ اقوام متحدہ نے رواں سال فروری میں عالمی برادری سے 53 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے زائد امداد کی اپیل تھی جس میں سے اب تک صرف 21 فیصد امدا د حاصل ہو سکی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگرفوری طور پر مزید امداد فراہم نہ کئی گئی تو متاثرہ علاقوں میں جاری صحت، تعلیم اور متاثرین کی رہائش سے متعلق اہم نوعیت کے منصوبے متاثر ہوں گے جب کہ نئے منصوبوں کو بھی شروع نہیں کیا جا سکے گا۔

فوری امداد نہ ملنے پر بعض منصوبے بند کرنے پر مجبور ہوں گے، اقوام متحدہ

فوری امداد نہ ملنے پر بعض منصوبے بند کرنے پر مجبور ہوں گے، اقوام متحدہ

مینول بیسلرنے کہا کہ اقوام متحدہ کے لیے شورش زدہ اضلاع اور قبائلی علاقوں میں تعلیم کے شعبے کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہے لیکن خاص طور پر اس شعبے کے لیے موصول ہونے والی رقم بہت کم ہے ۔ اُنھوں نے بتایا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں سے بے دخل ہونے والے 13 لاکھ افرا د ایک سال گزرنے کے بعد بھی کیمپوں اور اپنے عزیزواقارب کے ہاں پنا ہ لینے پر مجبور ہیں اور یہ لوگ مشکل اقتصادی صورت حال سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے باعث وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور حالیہ ہفتوں میں وہاں سے گھر چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہونے والوں کی تعداد میں تیز ی آئی ہے۔

خیال رہے کہ لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں طالبان شدت پسندوں نے اکثر تعلیمی اداروں کو اپنی تخریبی کارروائی کا نشانہ بنایا جب کہ فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد بھی مختلف علاقوں میں یہ سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے لاکھوں طلبا و طالبات کا تعلیمی مستقبل بے یقینی کا شکار ہے ۔
صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیرتعلیم سردار حسین بابک کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن بشمول سوات میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں کلی یا جزوی طور پر تباہ ہونے والے 913 تعلیمی اداروں کی جنگی بنیادوں پرتعمیر نو کے لیے صوبائی اور مرکزی حکومت فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ تاہم اُن کا ماننا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سردار حسین بابک نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی تعمیرنو کے لیے بین الاقوامی برادری اور غیر سرکاری تنظیمیں بھی اپنے طور پر کام رہی ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں تعلیم ، صحت ، زراعت کی سہولیات کی بحالی کے علاوہ مقامی آبادی کی املاک کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے 85 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن صوبائی وزیر کے بقول اُس میں بہت کم تعداد اُن تنظیموں نے حکومت سے رابطہ کیا ہے جنہوں نے امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

فوری امداد نہ ملنے پر بعض منصوبے بند کرنے پر مجبور ہوں گے، اقوام متحدہ

فوری امداد نہ ملنے پر بعض منصوبے بند کرنے پر مجبور ہوں گے، اقوام متحدہ

صوبہ خیبر پختون خواہ کے تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہاپسندوں کی کارروائی سے سب سے زیادہ نقصان تعلیم کے شعبے کو پہنچا ہے ۔ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسرعرفان اشرف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے علاوہ قبائلی علاقوں میں بھی لگ بھگ300 اسکولوں کودھماکا خیز مواد سے تباہ کیا گیا ہے ۔ پروفیسرعرفان اشرف کے مطابق اس صورت حال سے لاکھوں طالب علموں متاثر ہوئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ مالاکنڈ ڈویژن میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے لیکن طالب علموں کے لیے مئوثر علم کے حصول کو یقینی بنانے سے ہی صورت حال میں بہتری آئے گی۔

XS
SM
MD
LG