رسائی کے لنکس

یہ دھماکے مالاکنڈ ڈویژن کے ایک دور دراز گاؤں بازدرہ میں دو مساجد میں یکے بعد دیگرے ہوئے اور اس وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نماز جمعہ کے وہاں موجود تھی۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعہ کو ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔

یہ دھماکے مالاکنڈ ڈویژن کے ایک دور دراز گاؤں بازدرہ میں دو مساجد میں یکے بعد دیگرے ہوئے۔

دھماکوں کے وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نماز جمعہ کے لیے مساجد میں موجود تھی۔ زخمیوں میں اکثر کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

بم دھماکے سے ایک مسجد کی چھت بھی منہدم ہوگئی جس کے تلے دب کر متعدد افراد زخمی ہوئے۔

مالاکنڈ ڈویژن بشمول وادی سوات چند سال قبل طالبان شدت پسندوں کے زیر تسلط تھا لیکن 2009ء میں پاکستانی فوج نے یہاں کارروائیاں کرتے ہوئے حکومت کی عمل داری بحال کی۔

تاہم ان علاقوں سے فرار ہونے والے دہشت گرد اب بھی وقفوں وقفوں سے ایسے حملے کرتے رہتے ہیں۔

ملک میں 11 مئی کو ہونے والے انتخابات کے بعد دہشت گردی کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہے جب کہ انتخابی عمل کے دوران خیبر پختونخواہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو مکمل طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
XS
SM
MD
LG