رسائی کے لنکس

پاکستانی سینیٹ میں ملالہ کے لیے تہنیتی قرارداد منظور


ملالہ یوسفزئی

ملالہ یوسفزئی

قرار داد میں سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے فروغ کے لیے کوششوں اور قربانیوں کو سراہا گیا۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے نوبیل انعام جیتنے پر ملالہ یوسفزئی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک تہنیتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کی سابق حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل نے قرار داد پیش کی جس میں سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے فروغ کے لیے کوششوں اور قربانیوں کو سراہا گیا۔

حصول تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کے لیے گزشتہ ہفتے نوبیل امن 2014ء کا اعلان کیا گیا۔ اس سال کے لیے یہ اعزاز ملالہ اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بھارت کے کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر دیا گیا جسے یہ دونوں دسمبر میں وصول کریں گے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے یہ اعلیٰ اعزاز جیتنے پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ملالہ ملک کا ’فخر‘ ہیں اور اُنھوں نے اپنے ہم وطنوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

نوبیل انعام جیتنے کے بعد پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے ملالہ کے حق میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکا کا کہنا تھا کہ اس اعزاز سے ملک میں تعلیم خاص طور پر لڑکیوں کے لیے حصول تعلیم کے حق کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

سیاحتی علاقے سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی کو نو اکتوبر 2012ء کو اسکول سے گھر واپس جاتے ہوئے اپنے آبائی علاقے میں طالبان شدت پسندوں نے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔

پاکستان میں ابتدائی علاج کے بعد اُنھیں خصوصی ائیر ایمبولنس کے ذریعے علاج کے لیے برطانیہ منتقل کیا گیا جہاں اب وہ صحت مند ہیں اور اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG