رسائی کے لنکس

پاکستان: غذائی اشیا وافر ،قوت خرید محدودتر

  • شہناز نفیس

پاکستان میں ناکافی غذائیت اور بھوک کی شرح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات عالمی ادارہٴ صحت اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے پاکستان نیشنل نیوٹریشن سروے 2012ء کے عنوان سے کیے گئے ایک مشترکہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک عہدے دار، امجد جمال کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش ناکافی غذائیت کی بڑی وجوہات بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت، آبادی میں تیزی سے اضافہ اور 2010ء اور 2011ء میں رونما ہونے والی قدرتی آفات ہیں۔

بدھ کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں امجد جمال نے بتایا کہ پاکستان میں اشیائے خودو نوش کی دستیابی مسئلہ نہیں، بلکہ اُن تک لوگوں کی رسائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جِس کی وجہ لوگوں کی محدودقوت ِخرید ہے۔

اُدھر، عالمی ادارہٴ صحت اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے پاکستان نیشنل نیوٹریشن سروے 2012ء کے عنوان سے کیے گئے ایک مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ناکافی غذائیت اور بھوک کی شرح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ ناکافی غذائیت پاکستان میں پبلک ہیلتھ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس کی وجہ سے ہرسال 60لاکھ بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

امجد جمال نے بتایا کہ حالیہ سروے کے مطابق صوبہٴ سندھ کے دیہی علاقے سب سے زیادہ ناکافی غذائیت سے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور فاٹا کے علاقوں میں صورتِ حال اِس سے ابتر ہوسکتی ہے، کیونکہ سکیورٹی کی خراب صورتِ حال کہ وجہ سے سروے ٹیم کی وہاں تک رسائی ممکن نہیں تھی۔

بھوک اور ناکافی غذائیت پر قابو پانے کی غرض سے فوری اقدامات کے طور پر ملک میں سرکاری اور غیر سرکاری ایجنسیوں کی کوششوں کے بارے میں، امجد جمال کا کہنا تھا کہ جب سے یہ ڈیٹا سامنے آیا ہے تب سے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے کچھ اداروں نے اور جو اقوام متحدہ کی ایجنیاں ہیں، جِس میں یونیسیف اور عالمی غذائی پروگرام شامل ہے، مل کر ’اسپیشلائزڈ فوڈ‘ تقسیم کرنے کا ایک پروگرام ترتیب دیا ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG