رسائی کے لنکس

'بہتر مستقبل کے لیے غذائیت کی کمی پر قابو پانا صروری ہے‘


پاکستان جس کی آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور مہنگائی و بیروزگاری جیسے مسائل لوگوں کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں وہاں غذائیت سے بھرپور خوراک کا حصول لوگوں کی اکثریت کے لیے بظاہر آسان دکھائی نہیں دیتا۔

اقوام متحدہ اور سرکاری اعدادوشمار کے تناظر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں بچوں اور ماؤں کی نصف آبادی غذائیت کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل سے دوچار ہے اور ماہرین کے بقول اگر اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو یہ صورتحال مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

اس بارے میں منعقد کیے گئے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 44 فیصد بچے ایسے ہیں جن کا قد ان کی عمر کے مقابلے میں کم ہے جب کہ 50 سے 60 فیصد بچے اور مائیں ایسے بنیادی وٹامنز کی کمی کے شکار ہیں جو کہ انسان کی ذہنی و جسمانی نشونما کے لیے بے حد ضروری ہیں۔

غذائیت سے متعلق آگاہی پیدا کرنے اور اس بارے میں پالیسی سازوں کی راہنمائی کے لیے سرگرم تنظیم مائیکرونیوٹرینٹ انیشی ایٹیو اور 119 مختلف سماجی تنظیموں پر مشتمل اتحاد "سن سول سوسائٹی الائنس" کی طرف سے بدھ کو اسلام آباد میں مشاورتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین کا کہنا تھا کہ خاص طور حاملہ خواتین کو غذائیت سے بھرپور خوراک دینے سے پیدا ہونے والے بچوں کی بہتر ذہنی و جسمانی نشونما میں قابل ذکر حد تک مدد لی جا سکتی ہے۔

مائیکرونیوٹرینٹ انیشی ایٹیو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نصیر محمد نظامانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ غذائیت کی کمی کے جہاں ایک طرف ظاہری اثرات جسمانی نشمونما میں دکھائی دیتے وہیں اس کے ایسے اثرات بھی ہوتے جن کی وجہ سے بچے کی ذہنی نشونما نہیں ہوتی جس سے نہ صرف وہ تعلیمی میدان بلکہ آگے چل کر معاشرے میں ایک فعال شہری کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔

"اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا وہ غذائیت کی کمی کی وجہ سے ایسے ہو جاتے ہیں۔۔۔آئیوڈین کی کمی کی وجہ سے آپ کا آئی کیو لیول دس پوائنٹس کم ہو جاتا ہے۔۔اسی طرح وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے جسمانی چستی پر فرق پڑتا ہے اور بینائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ "

الائنس کے عہدیدار ڈاکٹر ارشاد دانش نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں غذائیت پر توجہ دینے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں آنے والی لاگت کو مستقبل بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری تصور کرنا کسی طور غلط نہیں ہوگا۔

"اگر آپ غذائیت کے مسئلے پر قابو پا لیں گے تو آپ بین الاقوامی سطح پر پائیدار ترقی کے مقرر کردہ اہداف حاصل کر لیں گے۔ بجائے اس کے کہ ہم اپنے علاج پر رقم خرچ کریں اگر ہم غذائیت پر خرچ کریں تو اس سے ہم بیماریوں کو بھی کم کر سکیں گے اور معاشی مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد لے سکیں گے۔"

پاکستان جس کی آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور مہنگائی و بیروزگاری جیسے مسائل لوگوں کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں وہاں غذائیت سے بھرپور خوراک کا حصول لوگوں کی اکثریت کے لیے بظاہر آسان دکھائی نہیں دیتا۔

لیکن ڈاکٹر نصیر نظامانی کہتے ہیں کہ خوراک میں چند بنیادوں چیزوں کو شامل کرنے سے غذائیت کی کمی کو خاصی حد تک پورا کیا جا سکتا ہے۔

"سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں، پھر حکومت کی طرف سے آٹے کو غذائیت سے بھرپور بنانے کے لیے اس میں آئرن اور ایسے وٹامن ملانے کا ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر نوزائیدہ بچے کو ماں کا دودھ ہر ممکن حد تک پلانے سے بچے کی آئندہ ذہنی نشونما میں قابل ذکر حد تک مدد لی جا سکتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG