رسائی کے لنکس

اپنی تحریروں سے معاشرے کے ناسوروں کی جراحی کرنے والے سعادت حسن منٹو نے ایک جگہ لکھا تھا ’’ میری تحریریں آپکو کڑوی اور کسیلی تو لگتی ہوں گی مگر جو مٹھاس آج آپ کو پیش کی جارہی ہے اس سے انسانیت کو کیا فائدہ ہوا ہے۔ نیم کے پتے کڑوے سہی مگر خون تو صاف کرتے ہیں۔‘‘

معاشرے کی بدصورتیوں، ظاہر پرستی اور سماجی منافرت کو اپنی تحریروں کے موضاعات بنانے والے اردو کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو سو برس قبل آج ہی دن غیر منقسم ہندوستان کے علاقے لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور صرف 43 برس کی عمر میں افسانوں کے 22، ریڈیو ڈرامے کے پانچ، مضامین کے تین اور شخصی خاکوں کے دو مجموعے اسی معاشرے کے سپرد کرکے لاہور میں آسودہ خاک ہوگئے۔

تقسیم ہند سے قبل ہی سعادت حسن منٹو نے کہانیاں اور افسانے لکھنا شروع کردیے تھے جن میں ممبئی میں فلموں کے لیے کہانیاں بھی شامل تھیں۔ ان میں کیچڑ، اپنی نگریا، بیگم، نوکر، چل چل رے نوجوان، گھمنڈی، بیلی، آٹھ دن، آغوش، مجھے پاپی کہو اور دوسری کوٹھی قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے دو فلموں میں کام بھی کیا۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد وہ لاہور منتقل ہوگئے اور اس دوران بھی کہانیاں لکھنے کا سلسلہ جاری رہا۔

اردو ادب کے ایک عہد ساز افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ منٹو ایک متنازع مصنف بھی رہے جنہیں اپنی بعض تحریروں پر نصف درجن کے قریب مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور جس کا احوال انھوں نے ایک جگہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں ’’مجھے آپ افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں اور عدالتیں ایک فحش نگار کی حیثیت سے، حکومت مجھے کمیونسٹ کہتی ہے اور کبھی ملک کا بہت بڑا ادیب، کبھی میری روزی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں کبھی کھولے جاتے ہیں۔‘‘

اردو کی ایک مصنفہ اور ڈراما نگار فرحین چوہدری منٹو پر لگنے والے الزامات کو بحیثیت لکھاری کچھ اس نظر سے دیکھتی ہیں۔

’’منٹو اپنے وقت سے بہت پہلے پیدا ہوگیا تھا اور منٹو نے بہت پہلے ایک نابالغ معاشرے کو بہت سارے بالغ موضوعات اور ان سے متعلقہ سوالات دے دیے تھے، تو تنگ نظر لوگ بوکھلا گئے۔ منٹو کا کوئی افسانہ بتادیں جس میں اس نے ہیجان خیزی پیدا کی ہو، یہاں تک کہ ’ٹھنڈا گوشت‘ جس پر سب سے زیادہ فحش نگاری کے الزامات لگے اور مقدمات بھی چلے، وہ افسانہ تو جنس سے پرے دکھیلتا ہے۔‘‘

فرحین چوہدری

فرحین چوہدری

سعادت حسن منٹو کے دو سے زائد افسانوں کے موضوعات اور ان کے فن کے بارے میں فرحین کہتی ہیں’’دیکھیے کہ وہ زمانہ کونسا تھا ایک طرف تقسیم ہورہی تھی لوگوں کے اصل چہرے سامنے آرہے تھے، دوست دشمن بن گئے تھے، خون ریزی ہورہی تھی پھر اس دور میں جو ریاکاری اور منافقت تھی جس نے منٹو کو یہ سب لکھنے پر مجبور کیا۔۔۔ اس نے گرے پڑے کرداروں کو اٹھایا اور یہ جو دور تھا وہ ویسے بھی سیگمنڈ فرائڈ کا دور تھا لوگ انسانی نفسیات پر لکھ رہے تھے، روسی ادب کا دور تھا چیخوف کے انھوں نے ترجمے کیے تھے تو اس کی وجہ ان کی سوچ بہت کشادہ ہوگئی تھی۔‘‘

اپنی تحریروں سے معاشرے کے ناسوروں کی جراحی کرنے والے سعادت حسن منٹو نے ایک جگہ لکھا تھا ’’ میری تحریریں آپکو کڑوی اور کسیلی تو لگتی ہوں گی مگر جو مٹھاس آج آپ کو پیش کی جارہی ہے اس سے انسانیت کو کیا فائدہ ہوا ہے۔ نیم کے پتے کڑوے سہی مگر خون تو صاف کرتے ہیں۔‘‘

سعادت حسن منٹو لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں دن ہیں اور ان کی قبر کے کتبے پر یہ تحریر درج ہے کہ ’’ یہ منٹو کی قبر کی قبر ہے جو اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا نام لوح جہاں پر حرف مکرر نہیں تھا۔‘‘

آڈیو رپورٹ سنیئے:

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG