رسائی کے لنکس

پاکستان میں دورانِ زچگی ہلاکتوں کی بلند شرح 'قابلِ تشویش'


فائل

فائل

پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی تعداد 87 فی ایک ہزار ہے جب کہ ہر ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں سے 64 موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ماہرینِ صحت نے پاکستان میں نوزائیدہ اور کم عمر بچوں کی شرحِ اموات کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس جانب فوری توجہ نہ کی گئی تو پاکستان، اقوامِ متحدہ کی جانب سے طے کردہ 'ترقی کے ہزاریہ اہداف' (ملینئم ڈویلپمنٹ گولز) کے حصول میں ناکام ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ نے 2000ء میں 'ایم جی ڈی' کے نام سے آٹھ ترقیاتی اہداف کا تعین کیا تھا جنہیں 2015ء تک حاصل کیا جانا ہے۔

ان اہداف میں دنیا سے غربت اور بھوک کے خاتمے، پرائمری تعلیم کو یقینی بنانے، صنفی امتیاز کےخاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے، ایڈز، ملیریا اور ان جیسے دیگر امراض پر قابو پانے، ماحولیات کے تحفظ اور ترقی کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

آٹھ اہداف کی اس فہرست میں چوتھے نمبر پر نوزائیدہ بچوں کی اموات کم کرنے جب کہ پانچویں نمبر پر مائوں کی صحت بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

تاہم ماہرین کےمطابق پاکستان اب بھی ان اہداف کے حصول سے خاصا دور ہے اور ملک میں مائوں اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیوں اور صحت کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
ملک میں نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح 1991ء سے برقرار چلی آرہی ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے۔


کراچی میں 'آغا خان یونی ورسٹی' اور بین الاقوامی ترقی سے متعلق امریکی ادارے 'یو ایس ایڈ' کے باہم اشتراک سے ہونے والے ایک سیمینار میں بتایا گیا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی تعداد 87 فی ایک ہزار ہے جب کہ ہر ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں سے 64 موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

سیمینار سے خطاب میں آغا خان یونی ورسٹی کے شعبہ نسواں و اطفال کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہ کا کہنا تھا کہ ملک میں نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح 1991ء سے برقرار چلی آرہی ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2010ء میں ہونے والے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں زچگی کے دوران ہلاکتوں کی شرح 260 فی ایک لاکھ خواتین ہے جب کہ صوبہ سندھ میں یہ شرح ملک بھر میں سب سے زیادہ - یعنی 314 فی ایک لاکھ – ہے۔

ڈاکٹر بھٹہ نے تجویز دی کہ حمل، زچگی اور بچے کے پیدائش کے بعد ماں اور بچے کی دیکھ بھال کے خصوصی اقدامات کے ذریعے اور نوزائیدہ بچے کے لیے خصوصی غذائی اجزا کی فراہمی اور حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام بہتر بنا کر اموات کی اس بلند شرح کو کم کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں زچگی کے دوران ہلاکتوں کی شرح 260 فی ایک لاکھ خواتین ہے


سیمینار سے خطاب میں سعودی عرب کے 'قاسم یونی ورسٹی' سے منسلک ڈاکٹر فرید مدحت نے پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی تعلیم اور روزگار کے مواقع سے محروم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملک میں عدم استحکام اور امن و امان کی خرابی کا باعث بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد گو کہ بہبودِ آبادی اور صحت کے شعبے صوبوں کو منتقل کردیے گئے ہیں لیکن اس اقدام سے صورتِ حال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

مائوں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت سے متعلق قومی کمیشن کی سربراہ ڈاکٹر صادقہ جعفری نے دورانِ زچگی ہونے والی اموات کی بلند شرح کو تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی، ناخواندگی ، غربت اور مناسب سہولاوت کی عدم فراہمی کا نتیجہ قرار دیا۔

'آغا خان یونی ورسٹی' کے ترجمان کے مطابق اس نوعیت کے سیمینارز دیگر صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد میں بھی منعقد کیے جائیں گے جن میں پیش کی جانے والی سفارشات اور تجاویز بعد ازاں ملک کی سیاسی قیادت ، اراکینِ پارلیمان اور متعلقہ حکام کو پیش کی جائیں گی۔
XS
SM
MD
LG