رسائی کے لنکس

شہنشہاہ غزل مہدی حسن چل بسے


مہدی حسن (فائل فوٹو)

مہدی حسن (فائل فوٹو)

مہدی حسن 1999 تک گاتے رہے لیکن بعد ازاں سانس کی تکلیف کے باعث آہستہ آہستہ انھوں نے گلوکاری ترک کردی

شہنشہاہ غزل مہدی حسن طویل علالت کے بعد بدھ کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ وہ طویل عرصے سے سانس کے عارضے سمیت دیگر امراض میں مبتلا تھے۔

گزشتہ 12 سال سے وہ علیل تھے اور اس دوران زیادہ وقت وہ اسپتال میں زیر علاج ہی رہے۔ رواں ماہ ان کی حالت زیادہ بگڑ گئی تھی اور چند روز قبل انھیں دوبارہ اسپتال داخل کرایا گیا تھا۔

فن موسیقی کی دنیا میں درس گاہ کی حیثیت رکھنے والے مہدی حسن راجستھان کے ریگ زاروں سے اٹھنے والی ایک ایسی آواز جس نے دنیائے موسیقی پر راج کیا اور اپنے پرائے بھی انھیں شہنشاہ غزل کہنے پر مجبور ہوئے۔ اپنے سامنے دربانوں کی طرح مودب کھڑے سروں کو اس شہنشاہ نے کلاسیکی سے لے کر لوک گائیکی تک ایسے اچھوتے اور باکمال انداز سے پیش کیا کہ ان سروں کو بھی خود پر ناز ہونے لگا۔

مہدی حسن غیر منقسم ہندوستان کے علاقے راجستھان کے ایک موسیقار گھرانے 18 جولائی 1927ء میں پیدا ہوئے۔ موسیقی کی باقاعدہ تعلیم اپنے والد عظیم خان اور چچا اسماعیل خان سے چھ سال کی عمر میں حاصل کرنا شروع کی۔

ٹھمری، خیال، دھادرا کے ساتھ راجوں مہاراجوں کے درباروں میں آٹھ سال کی عمر میں مہدی حسن نے اپنی گائیکی کے جوہر دکھانے شروع کیے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اور سنتے ہی سنتے ان کی شہرت چہار دانگ عالم میں پھیلنے لگی۔

تقسیم ہند سے کچھ عرصہ بعد مہدی حسن پاکستان آگئے اور پھر 50 کی دہائی میں ان کی آواز ریڈیو پاکستان سے ہر خاص و عام تک پہنچنے لگی۔

مہدی حسن کے انتقال کی خبر سن کر ان کے گھر پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی

مہدی حسن کے انتقال کی خبر سن کر ان کے گھر پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی

پھر 60 کی دہائی میں پاکستانی فلموں میں بھی ان کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا اور ان کے گائے فلمی گیت فلم کی کامیابی کی ضمانت قرار دیے جانے لگے۔

مہدی حسن 1999 تک گاتے رہے لیکن بعد ازاں سانس کی تکلیف کے باعث آہستہ آہستہ انھوں نے گلوکاری ترک کردی۔

مہدی حسن کی میت

مہدی حسن کی میت

ہزار ہا گیتوں اور غزلوں کو لازوال بنانے والی یہ آواز 13 جون 2012ء کو کراچی کے ایک نجی اسپتال میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG