رسائی کے لنکس

میمو کمیشن سماعت: منصور اعجاز پر جرح جاری

  • عادل زیب

میمو کمیشن کی ہدایات پر منصور اعجاز نے کہا کہ وہ حساس معلومات پر مبنی مسودے کی کاپی لندن میں میمو کمیشن کے حوالے کردیں گے۔ تاہم، اُنھوں نے حاصل کی گئی معلومات کے ذرائع بتانے سے انکار کیا

میمو گیٹ اسکینڈل کے اہم گواہ، منصور اعجاز نے پاکستانی ہائی کمیشن لندن میں میمو کمیشن کے اجلاس میں اُن کے بیان پر جاری جرح کے دوران جمعرات کو بتایا کہ ’چار ممالک کے انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل کی گئی مصدقہ معلومات سے‘ اُنھیں معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی جانب سے ظاہر کیے گئے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے خطرات حقیقت پر مبنی تھے۔

میمو کیس میں درخواست گزار بیرسٹر ظفر اللہ اور نواز شریف کے وکیل مصفطیٰ رمدے نے منصور اعجاز پر جرح کی جس کے بعد کمیشن کی کارروائی جمعے تک ملتوی کردی گئی۔

دورانِ جرح، سوالات کا جواب دیتے ہوئے منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ چار ممالک کی مصدقہ انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات پر مشتمل اُنھیں ایک مسودہ ملا ہے جس میں ڈی جی، آئی ایس آئی، شجاع پاشا کے مختلف ممالک کے ہنگامی دوروں اور ملاقاتوں کی تفصیلات، دو مئی کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد صدر زرداری اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی گفتگو کا متن، امریکی ہیلی کاپٹروں کی آمدورفت کا ڈیرہ اور پاکستان کے ایئر کنٹرول ٹریفک اور امریکی پائلٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو کا متن بھی شامل ہے۔

میمو کمیشن کی ہدایات پر منصور اعجاز نے کہا کہ وہ حساس معلومات پر مبنی مسودے کی کاپی لندن میں میمو کمیشن کے حوالے کردیں گے۔ لیکن، اُنھوں نے حاصل کی گئی ان معلومات کے ذرائع بتانے سے انکار کیا۔

میمو کیس میں نواز شریف کے لندن میں موجود وکیل مصطفیٰ رمدے کی جانب سے دورانِ جرح کیے گئے ایک سوال کے جواب میں منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد واقعے کے بعد امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی سے اُنھوں نے از خود رابطہ کیا تھا۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُن پر میمو کارروائی کا حصہ بننے کے لیے رقم لینے کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں، بلکہ وہ خود رضاکارانہ طور پر بیانِ حلفی کے لیے تیار ہوئے۔

میمو کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی عیسیٰ فیز نے خاص معلومات پر مبنی منصور اعجاز کے مسودے کا جائزہ لینے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی، آئی ایس آئی شجاع پاشا ریکارڈ کی درستگی کے لیے بیان دے سکتے ہیں۔

کمیشن نے منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ کی جرح کی تاریخ تبدیل کرنے کی استدعا مسترد کردی جب کہ حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ وہ منصور اعجاز پر 15مارچ کے بعد جرح کریں گے۔

XS
SM
MD
LG