رسائی کے لنکس

اقتصادی مشکلات، سماجی عوامل نے 40 فیصد پاکستانیوں کو ذہنی مریض بنا دیا

  • حسن سید

اقتصادی مشکلات، سماجی عوامل نے 40 فیصد پاکستانیوں کو ذہنی مریض بنا دیا

اقتصادی مشکلات، سماجی عوامل نے 40 فیصد پاکستانیوں کو ذہنی مریض بنا دیا

ماہرین نفسیات کی تنظیم کو اس امر پر تشویش ہے کہ ملک کی 40فیصد ذہنی بیمار آبادی کے علاج کے لیے صرف 1500 ماہرین نفسیات موجود ہیں جبکہ ذہنی امراض کی سنگینی کے بارے میں آگاہی نا ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے

پاکستانی ماہرین نفسیات کی تنطیم کے اندازوں کے مطابق ملک کی 17 کروڑ آبادی میں تقریباً40 فیصدلوگ مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں جن میں سے پانچ فیصد کو شدید نوعیت کے امراض لاحق ہیں۔

رضوان تاج

رضوان تاج

دیگر اسباب کے ساتھ ساتھ جائزے میں خراب معاشی حالت کو ذہنی امراض میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

طب کے نجی شعبے سے وابستہ ڈاکٹر عدالت خان تنطیم کے جائزے کی مکمل تائید کرتے ہیں بلکہ ان کے مطابق تو ذہنی امراض کا شکار آبادی کا تناسب چالیس فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے ’’کیوں کہ معاشرے میں ابھی تک ذہنی الجھنوں کو بیماری کے طور پر تسلیم ہی نہیں کیا گیا اور اکثر بیماریوں کو جادو یا کسی جن بھوت کا سایہ قرار دے کے نظر انداز کر دیا جاتا ہے‘‘۔

کوئی فرد یا طبقہ کس طرح ذہنی امراض سے بچ سکتا ہے یا ان سے مقابلہ کر سکتا ہے اس سلسلے میں ڈاکٹر عدالت کا کہنا ہے ’’اس کا بہترین راستہ قناعت پسندی ہے یعنی انسان قدرت کی دین پر اکتفا کرتے ہوئے مال و دولت کے پیچھے نہ بھاگے بلکہ دستیاب وسائل میں رہ کر ایک آسودہ زندگی گزارے‘‘۔

انہوں نے امراء کی طرف سے مال و دولت کی نمود و نمائش کو ’’سماجی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے معاشرے کے غیر مراعات یافتہ طبقے میں محرومی پھیلتی ہے اور وہ اضطراب کا شکار ہوکر جرائم کی طرف راغب ہوتے جاتے ہیں۔’’ایک شخص اگر80 ہزار کا موبائل فون رکھتا ہے تو اس کے آس پاس لوگوں میں بھی اس کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور اگر وہ یہ سب حاصل کرنے میں ناکام ہوں تو احساس کمتری یا ذہنی پریشانیوں سے دو چار جاتےہیں‘‘۔

اقتصادی مشکلات، سماجی عوامل نے 40 فیصد پاکستانیوں کو ذہنی مریض بنا دیا

اقتصادی مشکلات، سماجی عوامل نے 40 فیصد پاکستانیوں کو ذہنی مریض بنا دیا

ماہرین نفسیات کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ذہنی بیماریاں صرف مریض کی ذاتی زندگی میں ہی خلل نہیں ڈالتیں بلکہ اس کے خاندان اور پورے معاشرے کومتاثر کرتی ہیں کیوں کہ یہ امراض بے چینی اور عدم برداشت کو جنم دیتے ہیں اور ان رویوں سے تشدد کو فروغ ملتا ہے جبکہ تعمیری سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔"پاکستان میں پچاس فیصد ذہنی مریض ایسے ہیں جو پیدائشی طور پرتو صحت مند تھے لیکن حالات اور واقعات سے مایوسی ، افسردگی اور تناؤ کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن گے۔ ‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ذہنی امراض کی بنیادی وجوہات میں تشدد ، استحصال ، جنگی حالات ، تعلیم کی کمی ، امتیازی سلوک اور بنیادی انسانی حقوق کا صلب کیا جانا شامل ہیں۔ تاہم ڈاکٹر رضوان کے مطابق معاشرے کے تقریباََ سبھی طبقے اس کا شکار ہیں۔

ماہرین نفسیات کی تنظیم کو اس امر پر تشویش ہے کہ ملک کی 40فیصد ذہنی بیمار آبادی کے علاج کے لیے صرف 1500 ماہرین نفسیات موجود ہیں جبکہ ذہنی امراض کی سنگینی کے بارے میں آگاہی نا ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیوں کہ اکثر لوگوں کو اپنی بیماری کا ادراک تک نہیں ہوتا اور وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے پیروں فقیروں کا رخ کرتے ہیں جس سے ان کی ذہنی صحت پر مزید برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ عام طور پر کسی بھی آبادی میں دس فیصد ذہنی امراض کا شکار پائے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں اس کا تناسب چالیس فیصد تک ہونا یقینا باعث تشویش ہے اور ان کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی نا امیدی اور مایوسی کا عکاس بھی۔

طاہرہ کی رائے میں اگر غربت اور بے روز گاری جیسے مسائل حل ہو جائیں تو بہت حد تک بیمار ذہنوں کو صحت بخشی جا سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG