رسائی کے لنکس

بلوچستان او رسندھ میں مرسی کور کے دفاتر بند

  • ستارکاکڑ

بلوچستان او رسندھ میں مرسی کور کے دفاتر بند

بلوچستان او رسندھ میں مرسی کور کے دفاتر بند

بین الاقوامی غیر سرکاری امدادی تنظیم مر سی کور نے بلوچستان میں ایک مغوی ملازم کے قتل کی اطلاع کے بعد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں قائم اپنے تقر یباً 25دفاتر غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کر دیے ہیں۔

مر سی کور کے ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ فیصلہ ادارے کو نا معلوم افراد کی جانب سے بھیجی جانے والی ایک ویڈیو سی ڈی کے ملنے کے بعدکیا گیا ہے جس میں ادارے کے ایک ڈرائیور(حبیب اللہ) کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیاہے۔

حبیب اللہ کومری سی کور کے تین دیگر ملازمین سمیت بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے 18 فروری کو اغوا ء کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں حبیب اللہ کا پیغام بھی دکھایا گیا جس میں اُنھوں نے حکومت اوراپنے عزیز واقارب سے اپیل کی تھی کہ وہ اُس کی رہائی کے لیے بھرپور کوششیں کریں۔ جب کہ ویڈیو میں اغواء کاروں نے دیگر تین مغوی ملازمین کی رہائی کے بدلے دس کر وڑ روپے تاوان کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ پیغام ملنے کے بعد ادارے کے اعلیٰ حکام نے مر سی کور کے بلو چستان میں 25اور سندھ میں آٹھ دفاتر سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر فوری طور پر بندکر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مر سی کور حکومت کے اشتراک سے بلو چستا ن میں25 سال سے صوبے کے25اضلاع میں لوگوں کو صحت عامہ کی سہو لیات فراہم کر رہی ہے۔

سر کار ی ذرائع کے مطابق بلو چستان کی تقریباً 85 لاکھ آبادی کے لیے صوبے بھر میں 31 سرکاری ہسپتال ہیں۔ جب کہ بلوچستان میں ڈاکٹروں کی کل تعداد3200 ہے۔

14 مئی کو بھی کو ئٹہ میں ریڈ کراس سوسائٹی کے دفاترایک کالعدم بلو چ قوم پرست تنظیم کی جانب سے دھمکی آمیز خط ملنے کے بعد بند کر دے گئے تھے جب کہ اس سے پہلے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجر ین ”یو این ایچ سی آر“ بلو چستان کے سربراہ جان سولیکی کو بھی فروری2009ء میں ایک کالعد م بلو چ تنظیم کی جانب سے اغواء کیا گیا تھا اور کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد اُن کی بازیابی عمل میں آئی تھی۔

XS
SM
MD
LG