رسائی کے لنکس

لاہور بس سسٹم کی تعمیر کا کام گیارہ ماہ قبل شروع ہوا تھا اور 30 ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ مکمل ہوا ہے۔

پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے میگا پراجیکٹ لاہور میٹرو بس سروس کے افتتاح کے موقع پر ترکی کے نائب وزیر اعظم کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کے علاوہ لاہور میں امریکی کونسل جنرل نینا ماریا فائٹس سمیت کئی ملکوں کے سفارتی نمائندے اتوار کی صبح ہونے والی تقریب میں موجود تھے جب کہ اس بس سروس کے 27 کلومیٹر طویل راستے کو پھولوں اور پوسٹروں سے سجایا گیا تھا اور جگہ جگہ ڈھول پر رقص ہو رہا تھا۔

یہ رنگا رنگ تقریب جاری تھی کہ دوسری طرف لاہور کی جیل روڈ پر سات روز سے جاری ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے شرکاء یہ کہتے ہوئے اپنے کیمپ سے باہر آ گئے کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب تک اپنے مطالبات پہنچانے جا رہے ہیں۔ پولیس نے ان کو روکنے کی کوشش کی ادھر سے پتھراؤ ہوا پھر پولیس کا لاٹھی چارج اور گرفتاریاں۔ اس موقع پر وہاں موجود پیپلز پارٹی کے رہنما شوکت بسرا نے پولیس کو تشدد کا مورد الزام ٹھہرایا۔

دریں اثنا پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے میٹرو بس پراجیکٹ کے افتتاح کے بعد وہاں موجود حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میٹرو بس سسٹم میں نہ صرف فیکٹری مزدور سفر کریں گے بلکہ فیکٹری مالکان بھی سفر کیا کریں گے۔

’’یہ میٹرو بس سسٹم جس میں پاکستان کے مالک اور پاکستان کے عوام سفر کریں گے اسی میٹرو بس سسٹم میں یہ خادم بھی سفر کرے گا۔‘‘

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایسے ٹرانسپورٹ سسٹم دوسرے شہروں میں بھی بنائے جائیں گے۔ لاہور بس سسٹم کی تعمیر کا کام گیارہ ماہ قبل شروع ہوا تھا اور 30 ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ مکمل ہوا ہے۔

پنجاب کے حزب مخالف کی جماعتیں الزام عائد کرتی ہیں کہ اصل خرچہ 30 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے اور پنجاب حکومت نے ان کے بقول کئی دیگر اہم منصوبوں کے لیے مختص رقوم اس منصوبے میں لگا دی ہیں۔

پنجاب حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر جتنی رقم خرچ ہوئی ہے وہ چار یا ساڑھے چار سال حکومت اس پراجیکٹ کی آمدنی سے واپس حاصل کر لے گی۔
XS
SM
MD
LG