رسائی کے لنکس

”لشکر طیبہ مہلک تنظیم بنتی جارہی ہے“


”لشکر طیبہ مہلک تنظیم بنتی جارہی ہے“

”لشکر طیبہ مہلک تنظیم بنتی جارہی ہے“

امریکہ نے کالعدم انتہا پسند لشکرِ طیبہ کے خطے اورعالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس تنظیم کی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ہفتہ کی شب اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو میں امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیرمین ایڈمرل مائیک مولن نے پاکستان کی اس کالعدم شدت پسند تنظیم کی عالمی سطح پر اُبھرتا ہوا خطرہ قرار د یا۔

ایڈمرل مولن کے بقول صلاحیتوں میں اضافے اور عزائم میں وسعت سے لشکر طیبہ ایک مہلک تنظیم بنتی جا رہی ہے جس کی سرگرمیوں کا دائرہ کار افغانستان اور دوسرے ممالک تک پھیلتا جا رہا ہے۔

ایڈمرل مولن نے پاکستان میں لشکر طیبہ کے حوالے سے اپنائی گئی حکمت عملی پر براہ راست اظہار خیال سے گریز کیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو اس خطرے سے آگاہ کیا ہو۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت نے بھی نومبر 2008ء میں ممبئی میں کیے گئے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لشکر طیبہ پر لگا یا ہے اور وہ مسلسل پاکستان سے اس تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر تا آرہا ہے۔ ان حملوں میں کم از کم 166افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی حکام کا ماننا ہے حملہ آور، جو سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں ماردیے گئے تھے، سمندر کے راستے پاکستان سے بھارت پہنچے تھے۔ ایک مبینہ پاکستانی حملہ آور اجمل قصاب زندہ بچ گیا تھا جسے بھارتی حکام نے گرفتار کرلیا تھا۔

پاکستان نے ان حملوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں لشکرطیبہ کہ آپریشنل کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی سمیت سات افراد پر مقدمہ قائم کر رکھا ہے ۔ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ مقدمہ کی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے اجمل قصاب اور ان بھارتی افسران کو پاکستانی عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے جن کے سامنے قصاب نے اعتراف جرم کیا ہے۔لیکن بھارت نے اس مبینہ دہشت گرد کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔

لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کو کچھ عرصے تک ان کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا تھا لیکن عدالت عالیہ نے حکومت کی طرف سے اس اقدام کی کوئی قابل قبول وجہ بیان نہ کرنے کے سبب ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

بھارت یہ الزام لگاتا آیا ہے کہ لشکر طبیہ کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ روابط ہیں اور دونوں مل کر بھارتی سرزمین پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ لیکن پاکستان ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کرچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG