رسائی کے لنکس

”شدت پسندوں کی اصلاح کے حوصلہ افزاء نتائج“

  • شمیم شاہد

”شدت پسندوں کی اصلاح کے حوصلہ افزاء نتائج“

”شدت پسندوں کی اصلاح کے حوصلہ افزاء نتائج“

وادی سوات سے شدت پسندوں کے خاتمے کے بعد علاقے میں ایک طرف تعمیر نو کی سرگرمیاں جاری ہیں تو دوسری طرف حکومت کی زیر نگرانی ایک ایسا مرکز بھی قائم کر دیا گیا ہے جہاں 80 سے زائدنوجوان طالب عسکریت پسندوں کو معمول کی زندگی کی طرف لانے کے لیے اصلاحات کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔

سوات کے بری کوٹ کے علاقے میں ”طلوع صبح “ کے نام سے قائم مرکز میں ایسے نوجوانوں کی اصلاح کی جارہی ہے جو کبھی طالبان عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل تھے۔ اس مرکز کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق نے پیر کو پشاو ر میں صحافیوں کو بتایا کہ اس گروپ میں ایسے لڑکے بھی شامل ہیں جنھیں خودکش بمبار کی تربیت دی گئی تھی لیکن ماہرین اور اساتذہ کی مدد سے ان نوجوانوں میں شدت پسندرجحانات میں کمی آئی ہے اور اصلاح کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فاروق نے کہا کہ ادارے میں زیر تربیت 13 سے 19 سالہ نوجوان معاشرے کا ایک فعال حصہ ثابت ہوں گے ۔ اُنھوں نے بتایا کہ ان میں بیشتر لڑکوں کی اکثریت کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے جو حالات سے مجبور ہو کرشدت پسندی کی راہ پر چل نکلے تھے۔

طالبان شدت پسندوں نے گذشتہ سال وادی سوات کے بیشتر حصوں پر اپنا اثرورسو خ قائم کرلیا تھا لیکن فوج نے ”را ہ راست “ کے نام سے ایک بڑا آپریشن شروع کر کے حکام کے بقول وادی میں حکومت کی عمل داری بحال کرنے اور وہاں سے شدت پسندوں کو نکال باہر کیاہے۔

XS
SM
MD
LG