رسائی کے لنکس

مہمند ایجنسی میں خودکش حملہ ناکام، چار دہشت گرد مارے گئے

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بیان کے مطابق خودکش حملہ آور اسلحے سے لیس تھے اور انھوں نے کیمپ اور قریبی مسجد پر حملہ کیا جہاں زیر تربیت اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ایک حملے کو ناکام بنانے کا بتایا ہے جس میں ایف سی کے دو اہلکار اور چار حملہ آور مارے گئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کی طرف سے ہفتہ کو جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ عسکریت پسندوں نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب مرکزی قصبے غلنئی میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر حملہ کیا۔

بیان کے مطابق خودکش حملہ آور اسلحے سے لیس تھے اور انھوں نے کیمپ اور قریبی مسجد پر حملہ کیا جہاں زیر تربیت اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا لیکن اس لڑائی میں فرنٹیئر کور کے دو اہلکار مارے گئے جب کہ 14 زخمی بھی ہوئے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند گروپ "جماعت الاحرار" نے قبول کی ہے۔

فورسز نے افغان سرحد سے ملحقہ اس قبائلی علاقے میں سکیورٹی کو مزید سخت کر کے مختلف علاقوں میں ممکنہ شدت پسندوں کی تلاش بھی کر دی ہے۔

مہمند ایجنسی میں حالیہ مہینوں میں مختلف پرتشدد واقعات دیکھنے میں آچکے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز اور مقامی امن کمیٹیوں کے ارکان کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

رواں ہفتے ہی عسکریت پسندوں نے حملہ کر کے یہاں لیویز کے دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ ستمبر میں ایک مسجد میں ہونے والے خود کش حملے میں لگ بھگ تین درجن افراد مارے گئے تھے۔

دریں اثنا خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے سکیورٹی اہلکاروں سمیت نو افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق ہفتہ کو نیم قبائلی علاقے درازندہ کے علاقے حسن خیل سے مسلح افراد نے تیل اور گیس کی ایک کمپنی کے چھ ملازمین اور ان کی حفاظت پر مامور لیویز کے تین اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ ملازمین جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے سرحدی علاقے میں سرکاری امور کی انجام دہی میں مصروف تھے۔

تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروپ نے قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں شدت پسند یہاں اغوا کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں جو بھاری تاوان یا پھر اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے لیے مغویوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG