رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: قبائلیوں کے اغواء کاروں کے خلاف کارروائی

  • شمیم شاہد

مقامی قبائلی عمائدین کی مداخلت اور مذاکرات سے 90 سے زائد مغویوں کو رہا کر دیا گیا لیکن اب بھی ایک درجن سے زائد افراد شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جنہوں نے ہفتہ کو ایک سو سے زائد افراد کو ایک مقامی میلے سے اغواء کر لیا تھا۔

حکام کے مطابق ہفتہ کو اورکزئی اور خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقے حیدر کنڈو نامی علاقے میں مویشیوں کی ایک منڈی سے کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے عسکریت پسند 100 سے زائد افراد کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

مقامی قبائلیوں کے مطابق چونکہ اس منڈی میں منشیات کی خریدو فروخت بھی ہوتی ہے اور مبینہ طور پر شدت پسندوں نے اس میں ملوث افراد کو ہی یرغمال بنایا۔

بعد ازاں مقامی قبائلی عمائدین کی مداخلت اور مذاکرات سے 90 سے زائد مغویوں کو رہا کر دیا گیا لیکن اب بھی ایک درجن سے زائد افراد شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے ان افراد کی بازیابی کے لیے خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ میں کارروائی شروع کر رکھی ہے جب کہ جمرود کے علاقے میں قبائلی ذمہ داری قانون کے تحت متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں ان میں اورکزئی اور کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

دریں اثناء ضلع پشاور کے مضافات میں واقع نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز نے مقامی امن کمیٹی کے ایک رہنما کے اغواء اور قتل میں ملوث شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں ایک اہم طالبان کمانڈر سمیت چار عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

مقامی حکام نے اس کارروائی اور ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن اس کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔

یہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آئے ہیں جب حکومت کے ساتھ کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا مذاکراتی عمل جاری ہے لیکن اسی دوران وزیرستان میں شدت پسندوں کے مختلف گروپوں میں جھڑپیں اور ایک دوسرے پر حملے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

ان حملوں میں 50 سے زائد مشتبہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

لیکن ایک روز قبل ہی طالبان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جھڑپوں میں ملوث گروہوں کے درمیان صلح کروا دی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG