رسائی کے لنکس

گولی چلانے والے سے مذاکرات نہیں ہو سکتے: رانا تنویر


دفاعی پیداوار کے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

دفاعی پیداوار کے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

وفاقی وزیر نے کہا کہ جو پاکستان کے آئین کو مانتا ہے تو اس سے ہم ضرور بات کریں گے ’’اگر کوئی کہتا ہے کہ میں (آئین کو) مانتا ہی نہیں تو اس کے ساتھ بات کرنے کا فائدہ ہی نہیں ہے۔‘‘

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کی پالیسی بڑی واضح ہے۔

اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ حکومت کی ترجیح مذاکرات ہیں لیکن جو ’’گولی چلائے گا، اُس کو جواب گولی ہی سے دیا جائے یہ تو بالکل واضح ہے اس میں دوسری کونسی سوچ ہو سکتی ہے۔‘‘

رانا تنویر نے کہا کہ جو پاکستان کے آئین کو مانتا ہے تو اس سے ہم ضرور بات کریں گے ’’اگر کوئی کہتا ہے کہ میں (آئین کو) مانتا ہی نہیں تو اس کے ساتھ بات کرنے کا فائدہ ہی نہیں ہے۔‘‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کل جماعتی کانفرنس میں بھی اُن کے بقول اسی حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

’’آل پارٹیز کانفرنس پہلے ہوئی ہے تو دوبارہ کیوں نہیں ہو سکتی، اُن کو سارے حالات بتائے جا سکتے ہیں۔ جتنے بھی فریق اور سیاسی جماعتیں ہیں ہم تو سب کو ’آن بورڈ‘ رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

پاکستان کے راستے نیٹو افواج کی رسد کی بندش اور اس معاملے پر امریکہ سے تعلقات میں تناؤ کے بارے میں رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ ’’کشیدگی اور تناؤ تو نہیں کہہ سکتے لیکن تحفظات تو اُن (امریکہ) کو ضرور ہیں۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو اُن کے لیے ’سہل‘ اور قابل عمل ہے۔‘‘

وفاقی وزیر نے صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے نیٹو سپلائی بندش پر کہا کہ ’’سیاسی جماعتوں کا کام نہیں ہے… میں نہیں سمجھتا کہ یہ کام ہونا چاہیئے تھا۔ یہ ہماری پالیسی اور مفاد کے بھی خلاف ہے۔‘‘

رانا تنویر نے اس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ تحریک انصاف کی قیادت ذمہ داری کا ثبوت دے گی اور خیبر پختونخواہ سے گزرنے والا نیٹو سپلائی روٹ جلد بحال ہو جائے گا۔
XS
SM
MD
LG