رسائی کے لنکس

فوجی رابطوں کے خصوصی مراکز سے پاکستانی اہلکاروں کی واپسی


مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے

مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے

پاکستان نے نیٹو کے مہلک فضائی حملے کے ردعمل میں فوجی رابطوں کو موثر بنانے کے لیےافغان سرحد پر قائم تین میں سے دو مشترکہ مراکز سے اطلاعات کے مطابق اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کردیا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئےامریکی حکام نےخبر رساں ادارے ’اے پی‘ کو بتایا ہے کہ اس اقدام سے فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی افواج سے رابطے میں رہنے کی امریکی کوششوں میں رکاوٹ اور دوبارہ کسی غلطی کے امکانات میں بھی اضافہ ہوگا۔

لیکن ایک پاکستانی فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ فوجیوں کو مشاورت کی غرض سے عارضی طور پر واپس بلایا جا رہا ہے اور چند روز بعد خصوصی مراکز پر وہ دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنھبال لیں گے۔

26 نومبر کو مہمند ایجنسی میں پاکستان کی دو سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے اُس حملے کی دونوں جانب سے متضاد تفصیلات جاری کی گئی ہیں جس میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس مہلک حملے کے باعث پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں اور افغان جنگ میں پاکستانی تعاون کے حصول کی امریکی کوششیں بھی مشکلات سے دوچار ہو گئی ہیں۔

پاکستان نے نیٹو حملے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے احتجاجاً اتحادی افواج کے لیے رسد کی سپلائی لائنز بند کر رکھی ہیں جبکہ امریکہ سے 11 دسمبر تک بلوچستان میں شمسی ائربیس خالی کرنے کا بھی کہہ رکھا ہے جس پر امریکی حکام نے عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ مزید برآں پاکستان نے افغانستان کے استحکام کے بارے میں جرمنی کے شہر بون میں پیر کو منعقدہ کانفرنس کا بھی بائیکاٹ کیا۔

رواں ہفتے اپنے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی چاہتا ہے۔

لیکن سرحدوں پر قائم فوجی رابطوں کے مشترکہ مراکز سے فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیٹو کے ’’دانستہ‘‘حملے کے خلاف پاکستانی فوج کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے۔

پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کی طرف سے اُنھیں آپریشن کی غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں اور دونوں جانب متعلقہ افسران کے مابین رابطہ ہونے کے باوجود حملہ کیا گیا۔

امریکہ کا موقف ہے کہ حملہ غیر ارادی تھا اور حقائق جاننے کے لیے اُس نے اپنی تحقیقات 23 دسمبر تک مکمل کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

دریں اثنا جن مراکز سے پاکستانی فوجیوں کو واپس بلایا جا رہا ان کے نام نہیں بتائے گئے ہیں البتہ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سرحدوں کی نگرانی کے مشترکہ مراکز کی تعداد چار ہے جو چمن، طورخم ، باجوڑ اور وزیرستان میں افغان سرحد پر قائم ہیں۔

محمود شاہ کے بقول پاکستانی فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ نیٹو حملے کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کی ایک کڑی ہے۔’’ان حالات میں ان (مشترکہ) مراکز کو کوارڈینشن (رابطوں) کے لیے تو برائے نام ہی استعمال کیا جاتا ہے تو پاکستانی افسران کا وہاں ہونا یا نا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔‘‘

XS
SM
MD
LG