رسائی کے لنکس

فوج نے انتہا پسندی سے صرفِ نظر نہ کرنے کا تہیہ کر لیا ہے: تجزیہ کار


فوج نے انتہا پسندی سے صرفِ نظر نہ کرنے کا تہیہ کر لیا ہے: تجزیہ کار

فوج نے انتہا پسندی سے صرفِ نظر نہ کرنے کا تہیہ کر لیا ہے: تجزیہ کار

پاکستان کے فوج کے سپاہیوں یا نان کمیشنڈ آفیسرز کی شدت پسندوں کے ساتھ تعلق کی بنا پر گرفتار یاں تو عمل میں آئی ہیں ،جیسا کے2003ء میں اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف پر حملوں کے بعد ایئر فورس اور آرمی کے نان کمیشنڈ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ لیکن، تجزیہ کاروں کے مطابق اِس الزام کے تحت کسی اعلیٰ فوجی افسر کی گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

دفاعی تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے ایک سابق جنرل (ر) طلعت مسعود کے بقول، بعض دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کچھ سینئر افسرز کو گرفتار کیا گیا ہے’ جو مختلف وجوہات کی بنا پرپاکستان کے خلاف کام کر رہے تھے یا ادارے کے خلاف تھے۔‘

لیکن، اُن کے خیال میں اِس قسم کی گرفتاری پہلی مرتبہ ہوئی ہے، ’جو ایک ایسی تنظیموں کے ساتھ کام کررہے تھے جو ریاست کے خلاف جنگ کر رہے ہیں، فوج کو ہدف بنا رہے ہیں، انٹیلی جنس، سکیورٹی ایجنسیوں اور معصوم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔‘

جنرل (ر) طلعت نے کہا کہ ایسے عناصر کے ساتھ تعاون کرنا، اُن کے بقول، ایک جرم ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری بہت اہم ہے، کیونکہ اِس سے کئی اور ممکنہ روابط کے بارے میں پتا لگانے کا موقعہ ملے گا۔

جنرل طلعت نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو تحقیقات اور تفتیش ہوگی اُس سے کیا پتا لگتا ہے کہ گرفتار برگیڈیئر اکیلے تھے یا اُن کے ساتھ کئی اور لوگ بھی تھے۔ اُن کے بقول، تمام سوالات کے جوابات کا لوگوں کو سخت انتظار رہے گا۔

اِس سوال پر کہ کیا اِس گرفتاری سے فوج کے ادارے کو نقصان پہنچا ہے، اُنھوں نے کہا کہ ’ظاہر ہے، پہنچ تو رہا ہے، لیکن اگر اِن کے خلاف ایکشن نہ لیں تو اور بھی نقصان پہنچے گا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ اچھا ہوا کہ تحقیقات کی جارہی ہے۔ ’دراصل، اب فوج کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ اِس قسم کے لوگوں کی کوئی جگہ نہیں اور پاکستان فوج کو اِس قسم کے لوگوں سے صاف کیا جائے۔‘

فوج کے اندر مذہبی انتہا پسندی سے متعلق ایک سوال پر سیاسی اوردفاعی تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ پہلے بھی ایسی خبریں آتی رہی تھیں کہ کچھ لوگ ذاتی طور پر اپنے رجحانات کو مذہبی انتہا پسندی کی طرف لے جارہے ہیں۔’لگتا یہ ہے کہ اب فوج نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اِن معاملات کا ایک حقیقت پسندانہ انداز میں جائزہ لے گی ،اور میرا خیال یہ ہے کہ، اِسی طرح آرمی اب پروفیشنلزم کو زیادہ اہمیت دے گی۔‘

یہ پوچھنے پر کہ کیا یہ خفیہ اداروں کی ناکامی نہیں ہے، ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں فوج کے اندر اور باہر بہت سے معاملات کو برداشت کیا جاتا رہا۔ اُنھوں نے کہا کہ فوج کے اندر انتہا پسندی کا رجحان جنرل ضیا الحق کے زمانے میں شروع ہوا اور اُس کے بعد بہت سی باتوں کو صرفِ نظر کیا گیا۔اُن کے بقول، اب فوج نے فیصلہ کرلیا ہے کہ معاملات اتنے بگڑ گئے ہیں کہ ہم اِن کو صرفِ نظر نہیں کریں گے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG