رسائی کے لنکس

کیا پاکستانی فوج مشرف کے ساتھ کیے گئے سلوک پر برہم ہے؟


اخبارات جبکہ اسے مشرف کی قانونی مشکلات کی جانب ایک ڈھکا چھپا اشارہ قرار دے رہے ہیں، کیانی نے کہا، ’’میری رائے میں یہ محض جزا اور سزا کا معاملہ نہیں بلکہ یہ عوام کا شعور اور ان کی شراکت ہے جس سے جمہوریت اور آمریت کے درمیان آنکھ مچولی کا یہ کھیل ختم ہو سکتا ہے۔‘‘

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ پرویز کیانی نے تاثر دیا ہے کہ پرویز مشرف کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد پاکستان واپسی پر ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر فوج خوش نہیں ہے۔

منگل کے روز پاکستان میں ایک عدالت نے مشرف کے انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کر دی تھی۔

پاکستان کے سابق آرمی چیف دو ماہ قبل مارچ میں اپنی چار سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے گیارہ مئی کے عام انتخابات میں حصہ لینے کی غرض سے پاکستان آئے تھے۔ لیکن الیکشن آفیسرز نے انہیں اس بنیاد پر نااہل قرار دیا تھا کہ عدالت میں ان کے خلاف کیسز زیر ِ سماعت ہیں۔

اخبارات جبکہ اسے مشرف کی قانونی مشکلات کی جانب ایک ڈھکا چھپا اشارہ قرار دے رہے ہیں، کیانی نے کہا، ’’میری رائے میں یہ محض جزا اور سزا کا معاملہ نہیں بلکہ یہ عوام کا شعور اور ان کی شراکت ہے جس سے جمہوریت اور آمریت کے درمیان آنکھ مچولی کا یہ کھیل ختم ہو سکتا ہے۔‘‘

کیانی، جن کا شمار بلاشبہ اس وقت پاکستان کی طاقتور ترین شخصیات میں کیا جاتا ہے، یوم ِ شہدا پر فوج کے ہیڈ کوارٹرز میں تقریر کر رہے تھے۔ اخبارات نے ان کی تقریر کے مندرجات کو پہلے صفحے پر شہہ سرخیوں میں جگہ دی ہے۔

رائیٹرز کے مطابق پاکستان کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ میں آدھے سے زیادہ وقت فوج نے جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹ کر یا پس ِ پردہ رہ کر پاکستان پر حکومت کی ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان میں جمہوری حکومت ہونے کے باوجود بھی فوج ہی پاکستان کی سلامتی سے متعلق امور اور خارجہ پالیسی طے کرتی ہے۔

لیکن پاکستان کی حالیہ تاریخ میں اس رجحان میں نسبتا کمی دیکھنے کو ملی ہے اور فوجی عہدیداروں نے سیاست میں مداخلت کم کی ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی اور سویلین قیادت کے درمیان تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں اور ساتھ ہی سپریم کورٹ کے ساتھ بھی جس نے خاصی مداخلت کی ہے اور انسانی حقوق کے حوالے سے فوج کے ریکارڈ پر سوالات اٹھائے ہیں۔

2007ء میں چیف جسٹس افتخار چوہدری اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان تعلقات اس وقت تناؤ کا شکار ہوئے تھے جب پرویز مشرف نے چیف جسٹس کو ان کے عہدے سے برخاست کیا۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے پرویز مشرف کو اقتدار کو طول دینے کے ارادوں کی مخالفت کی تھی۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری بعد میں اپنے عہدے پر بحال کر دئیے گئے تھے۔

پرویز مشرف کو وطن واپسی کے بعد سے اب تک قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے ایسے سابق آرمی چیف ہیں جنہیں گذشتہ جمعے کو پولیس ہیڈکوارٹرز میں حراست میں لیا گیا۔ یہ حراست اس غیر تحریر کردہ قانون کی نفی ہے جس کی رُو سے فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کو چھیڑا نہیں جا سکتا، خواہ وہ اپنے عہدوں سے ریٹائر ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں۔

بیس اپریل کو ایک عدالت نے سابق صدر کو دو ہفتے کے لیے اس وقت حراست میں لینے کا حکم صادر کیا جب ججوں نے اپنے دور ِ اقتدار میں عدلیہ پر شب خون مارنے پر مشرف پر مقدمہ چلانے کی کارروائی کو آگے بڑھایا۔ مشرف کے ریمانڈ کی مدت چار مئی کو ختم ہو جائے گی۔

دوسری طرف منگل کے روز راوالپنڈی میں انسداد ِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے مشرف کے چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ کا فیصلہ صادر کیا۔ یہ ریمانڈ سابق وزیر ِ اعظم بے نظیر بھٹو کو مکمل سیکورٹی فراہم نہ کرنے پر دیا گیا۔

پرویز مشرف نے 1999ء میں اس وقت کے منتخب اور جمہوری وزیر ِ اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تھا۔

XS
SM
MD
LG