رسائی کے لنکس

جنرل قمر باجوہ کا افغان قیادت سے رابطہ


جنرل قمر جاوید باجوہ (فائل فوٹو)

جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور افغان فوج کے سربراہ قدم شاہ شاہیم سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہفتہ کو افغان قیادت سے رابطہ کیا اور جس میں اُنھوں نے علاقائی امن کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی 'آئی ایس پی آر' کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور افغان فوج کے سربراہ قدم شاہ شاہیم سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ جنرل باجوہ نے "2017ء کے لیے نیک خواہشات کو اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں میں امن "خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔"

’آئی ایس پی آر‘ کے بیان میں کہا گیا کہ افغان قیادت نے پاکستانی فوج کے سربراہ کو افغانستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاہم مجوزہ دورے کی نا تو کوئی تاریخ اور نا ہی اس بارے میں مزید تفصیل بتائی گئی۔

کابل حکومت یہ الزام عائد کرتی ہے کہ افغان طالبان کو پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی کی طرف سے ملنے والی مبینہ درپردہ معاونت کی وجہ سے شدت پسندوں نے افغانستان میں اپنی کارروائیوں کو طول دیتے ہوئے انہیں وسیع علاقے تک پھیلا دیا ہے۔

اسلام آباد ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے پڑوسی ملک میں "سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال" اور افغان قومی اتحاد کی حکومت کو درپیش سیاسی تنازعات سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیتا ہے۔

ہفتے کو جاری ہونے والے ایک دوسرے بیان میں فوج نے افغان سرحد سے متصل اپنے قبائلی علاقوں اور پاکستان کے دیگر حصوں میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کو پہنچنے والے جانی نقصان کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

پاکستانی فوج نے جون 2014ء میں افغانستان سرحد سے ملحق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 3،500 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور اس دوران تقریباً 600 فوجی اہلکار ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

افغان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے باعث سرحد پار فرار ہونے والے عسکریت پسندوں کی وجہ سے پہلے سے شورش کا شکار افغانستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔

XS
SM
MD
LG