رسائی کے لنکس

فوجی عدالت سے سنائی سزائے موت کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل


تاج محمد عرف رضوان

تاج محمد عرف رضوان

رضوان کی والدہ نیک مارو نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں اس سزا کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

پاکستان میں فوجی عدالتوں کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت کے ایک اور مجرم کی والدہ نے اس سزا کے خلاف پشاور کی عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے۔

فوج کی طرف سے گزشتہ ماہ جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ چھ لوگوں کو دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی جس کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے توثیق کر دی ہے۔

ان میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والا تاج محمد عرف رضوان بھی شامل تھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہلاکت خیز حملہ کرنے والوں کی معاونت کی تھی۔

رضوان کی والدہ نیک مارو نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں اس سزا کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رضوان کو رواں سال فروری میں سادہ کپڑوں میں سکیورٹی ایجنسی کے لوگ گھر پر سے اٹھا کر لے گئے تھے جس کے بعد سے انھیں اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

ان کے بقول ان کا بیٹا بے قصور ہے اور اس کا کبھی بھی کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہیں رہا اور جس روز پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا تو وہ اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ اسپتال میں تھا۔

تاہم نیک مرو کا کہنا ہے کہ رضوان 2007ء میں ایک قبائلی شخص کے ساتھ جنوبی وزیرستان گیا تھا اور وہاں چالیس روز تک قیام کیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت کے فیصلے کی تفصیل منظر عام پر آنے کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ رضوان کو بھی سزائے موت ہوئی ہے جس کے بعد انھوں نے مختلف جیلوں میں اس کی تلاش کی لیکن انھیں رضوان کے بارے کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ سزائے موت کو کالعدم قرار دیا جائے۔

پشاور ہائی کورٹ میں اس سے قبل بھی فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے ایک اور مجرم حیدر علی کے اہل خانہ نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔

رواں سال کے اوائل میں پارلیمان نے آئین میں ترمیم کر کے دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد ملک بھر میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔

ان عدالتوں سے اب تک 18 دہشت گردوں کو سزائے موت اور تین کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG