رسائی کے لنکس

جنرل راحیل نے 12 ’دہشت گردوں‘ کی سزائے موت کی توثیق کر دی


جنرل راحیل شریف (فائل فوٹو)

جنرل راحیل شریف (فائل فوٹو)

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جن ’’دہشت گردوں‘‘ کی سزاؤں کی توثیق کی گئی اُن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اور سپاہ صحابہ سے ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شیریف نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 12 ’’سخت گیر دہشت گردوں‘‘ کی سزاؤں کی توثیق کر دی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ جن مجرموں کی سزاؤں کی توثیق کی گئی وہ دہشت گردی کے سنگین جرائم، بشمول بنوں جیل توڑنے، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سویلین پر حملوں میں ملوث تھے۔

جن ’’دہشت گردوں‘‘ کی سزاؤں کی توثیق کی گئی اُن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اور سپاہ صحابہ سے ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ محمد عربی تحریک طالبان پاکستان کا سرگرم کارکن تھا اور وہ 2012ء میں بنوں جیل پر حملے میں مدد کرنے میں ملوث تھا۔

محمد عربی کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں میں بھی ملوث تھا جن میں کئی فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ محمد عربی ذیلی عدالت میں اعتراف جرم کر چکا تھا۔

ایک اور سزا یافتہ مجرم رفیع اللہ کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کالعدم سپاہ صحابہ سے وابستہ تھا۔ بیان میں بتایا گیا کہ رفیع اللہ سید وقار حیدر کے قتل میں ملوث تھا جب کہ لاہور میں اس حملے میں عبدالستار طاہر نامی شخص زخمی ہو گیا تھا۔

قاری آصف محمود کا تعلق بھی سپاہ صحابہ سے تھا، یہ بھی سید وقار حیدر کے قتل میں ملوث تھا جب کہ اس کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی ملا۔

شوالح کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا رکن تھا اور اُسے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔

محمد ذیشان اور ناصر خان کا تعلق القاعدہ سے تھا اور دونوں کو مسلح افواج پر حملوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گئی۔ ان کے حملوں میں کئی فوجی ہلاک و زخمی بھی ہوئے۔

شوکت علی کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھا۔

امداد اللہ اور محمد عمر کا تعلق بھی تحریک طالبان پاکستان سے بتایا گیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق یہ دونوں تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کے علاوہ سکیورٹی فورسز پر حملوں میں بھی ملوث تھے۔

صابر شاہ، خان داد اور انور علی بھی تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تھے اور اُنھیں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔

دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات تیزی سے نمٹانے کے لیے گزشتہ سال ملک میں دو سال کے لیے فوجی عدالتیں بنائی گئی تھیں جن سے اب تک کئی ’’دہشت گردوں‘‘ کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے ہی پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے چار مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے اُن کے خلاف چلائے گئے مقدمات کے بارے میں مزید تفصیلات طلب کی تھیں۔

جن مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد روکا گیا اُن میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے میں بطور سہولت کار کردار ادا کرنے کے جرم میں سزا یافتہ دو مجرم بھی شامل ہیں۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف بعض حلقے بشمول وکلاء اور انسانی حقوق کی تنظیمیں تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں لیکن پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے محدود وقت کے لیے یہ عدالتیں بنائی گئی ہیں، جہاں مقدمات کے دوران ملزمان کو صفائی کا مکمل موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

پاکستان کو ایک دہائی سے زائد عرصے سے بدترین دہشت گردی کا سامنا رہا ہے، اگرچہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے جاری بھرپور کارروائیوں کے باعث ملک میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے اعلانات کیے جا چکے ہیں لیکن اب بھی شدت پسند وقفے وقفے سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گزشتہ ماہ دہشت گردوں کے ایک گروہ نے چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر مہلک حملہ کیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی عسکریت پسند منظم حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG