رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینیئر قانون دان کامران مرتضیٰ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے لیے کیے گئے اقدام اگر سول عدلیہ میں بھی کر لیے جاتے تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔

دہشت گردی کے مقدمات کی تیز تر سماعت کے لیے ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں دو سال کی مزید توسیع پر گو کہ پارلیمانی جماعتوں کے اتفاق کے بعد حکومت آئندہ ہفتے اس ضمن میں مجوزہ ترمیم ایوان میں پیش کرنے جا رہی ہے، لیکن مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے سامنے آنے والے تحفظات دو سال پہلے کی صورتحال کی بازگشت معلوم ہو رہے ہیں۔

جنوری 2015ء میں آئین اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کر کے دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں اور اُس وقت بھی خاص طور پر وکلاء برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک میں ایک متوازی نظام عدل قائم کرنے کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔

حکومت نے اُس وقت بھی ان تحفظات کو یہ کہہ کر مسترد کیا تھا کہ ملک کو درپیش مخصوص حالات میں یہ اقدام ناگزیر ہیں اور اب بھی حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دو سالوں میں سول نظام عدل میں اصلاحات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ آئندہ فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش نہ آئے۔

تاہم جمعہ کو ایوان بالا "سینیٹ" میں چیئرمین رضا ربانی کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع ان کے بقول بدقسمتی ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ یہ مدت 2019ء سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

ان کے بقول سینیٹ کی ایک کمیٹی نے اس ضمن میں ایک مجوزہ ترمیمی بل بھی منظور کیا تھا اور اگر اس سے استفادہ کیا جاتا تو اس وقت صورتحال مختلف ہوتی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ دو سال پہلے جب فوجی عدالتوں کے لیے آئینی ترمیم منظور کی گئی تھی تو ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے رضا ربانی نے گلوگیر آواز میں کہا تھا کہ انھوں نے اپنے ضمیر کے خلاف اس حق میں ووٹ دیا جس پر وہ بہت شرمندگی محسوس کر رہے ہیں۔

ادھر قانونی حلقوں کی طرف سے بھی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر ایک بار پھر تحفظات کا اظہار دیکھنے میں آیا ہے اور ان حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کی کارروائی میں ایک جوڈیشل افسر شامل کیا جائے اور ان کی کارروائی کو خفیہ نہ رکھا جائے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینیئر قانون دان کامران مرتضیٰ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے لیے کیے گئے اقدام اگر سول عدلیہ میں بھی کر لیے جاتے تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔

"فرض کریں جو ملٹری کورٹس میں انھوں نے ججز بنائے ہیں جب ان کی شناخت ظاہر کی جاتی تو یہی کام آپ سول عدلیہ میں کروا لیتے، اسی طرح وکیل کی اور گواہوں کی شناخت آپ عام نہ کریں۔ فرض کر لیں اگر یہی حل ہے تو یہ تو سول سائیڈ پر بھی ہو سکتا تھا۔"

حکومتی عہدیداروں کا خیال ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے دہشت گردی سے متعلق مقدمات کو جلد نمٹانے میں خاصی مدد ملی ہے اور فی الحال ان کی مدت میں توسیع وقت کی ضرورت ہے۔

جمعہ کو ہی وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی عدالتیں کسی بھی سیاسی جماعت کی ترجیح نہں ہیں لیکن یہ فیصلہ ملک کو درپیش صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

انھوں نے ایوان کو ایک بار پھر یقین دلایا کہ فوجی عدالتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG