رسائی کے لنکس

وادی تیراہ میں شدید لڑائی، 27 ’دہشت گرد‘ ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

فوج کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں سے زائد وقت سے جاری لڑائی میں کپیٹن اجمل سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی میں ایک فوجی افسر سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق لڑائی میں 27 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’خیبر ٹو‘ نامی فوجی آپریشن میں فوج کو اہم کامیابی ملی اور فوج نے دہشت گردوں کے مضبوط مراکز سنداپال، توردرہ، کنڈوالا اور مہربان کلی کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

فوج کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں سے زائد وقت سے جاری لڑائی میں کپیٹن اجمل سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہوئے۔

پاکستانی فوج افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔

خیبرایجنسی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس سے جڑے شدت پسند گروپ لشکر اسلام کے جنگجوؤں نے اپنی پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں۔

حال ہی میں فوج کی طرف سے ایک بیان میں بتایا گیا کہ خیبر ایجنسی میں واقع ’درہ مستئول‘پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے، جسے دہشت گرد سرحد پار افغانستان آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے تھے۔

رواں ہفتے افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی علاقوں سے آنے والے دہشت گرد اُن کے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے عہدیدار کے بیان پر پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ افغانستان سے تعاون جاری ہے جس میں بہتری آ رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کے اپنے ایک جامع آپریشن کے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جب آپریشن ’ضرب عضب‘ کا آغاز کیا گیا تو اُس وقت افغانستان کی حکومت اور وہاں تعینات بین الاقوامی افواج سے کہا گیا کہ وہ سرحد کی اُس جانب اقدامات اور اُن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں جو فرار کی کوشش کر سکتے ہیں۔

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ کوشش رہی ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد کی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور اس کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی طرف سے ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ پاکستان سے دہشت گرد افغانستان میں جا کر کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

XS
SM
MD
LG