رسائی کے لنکس

شوال میں جیٹ طیاروں کی بمباری، 14 مشتبہ دہشت گرد ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

گزشتہ ہفتے ہی شوال میں زمینی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ آپریشن اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔

فوج کے بیان کے مطابق ہفتہ کو جیٹ طیاروں کی مدد سے کی گئی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 14 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق بمباری سے دہشت گردوں کی متعدد پناہ گاہوں اور اسلحے کے ذخیرے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

علاقے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد اور نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

شوال افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کا ایک دشوار گزار علاقہ ہے جہاں حکام کے مطابق فوجی آپریشن ضرب عضب سے فرار ہونے والے دہشت گردوں نے اس بنا پر ٹھکانے بنائے تھے کہ پہاڑیوں کے دامن میں ہونے کی وجہ سے وہ فضائی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔

رواں ہفتے ہی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شوال کا دورہ کیا تھا جس میں اُنھیں بتایا گیا کہ اس وادی کی اہم چوٹیوں پر قبضہ بحال کرنے کے علاوہ علاقے کے اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے علاقائی کمانڈروں کو ہدایت کی کہ دہشت گردوں کی تمام پناگاہوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہمارے بچوں اور لوگوں کو ہلاک کرے۔ اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردوں کی کسی بھی لمحے پر مدد کرنے والوں کے چہروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں گزشتہ سال شروع کیے گئے فوجی آپریشن میں حکام کے مطابق لگ بھگ تین ہزار ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی شوال میں زمینی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ آپریشن اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

ایک ہفتے کے دوران اس کارروائی میں درجنوں شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ فوج کے بھی کم ازکم پانچ اہلکار جھڑپوں میں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد ملک میں ماضی کی نسبت امن و امان کی صورتحال میں قابل ذکر حد تک بہتری دیکھی گئی ہے اور تشدد کے اکا دکا واقعات کو حکام شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کا ردعمل قرار دیتے ہوئے اس عزم اظہار کرتے آئے ہیں کہ ان پر بھی قابو پا لیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG